رسائی کے لنکس

شام پر ایک اور کیمیائی حملے کا الزام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ شام کی حکومت ایک تیسرے کیمیائی حملے کی "ذمہ دار" ہے۔

اس گروپ نے 13 ماہ کی تحقیقات کے دوران اپنی چوتھی رپورٹ جمعہ کو دیر گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ارسال کی جس میں بتایا گیا کہ "قابل ذکر شواہد" ادلب کے علاقے قمیناس میں گزشتہ سال 16 مارچ کو پیش آنے والے واقعے میں شامی حکومت کے کردار کی تصدیق کرتے ہیں۔

رپورٹ میں صدر بشارالاسد کو حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کلورین والے متعدد بم استعمال کیے۔

یہ تفتیش یہ تو تصدیق نہیں کر سکی کہ اس میں کونسی فوجی یونٹس کے اہلکار ملوث تھے لیکن اس کے مطابق جو ہتھیار استعمال کیے گئے وہ شام میں 63 ہیلی کاپٹر بریگیڈ کے دو اڈوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں ان حکام کا احتساب کرنے پر زور دیا گیا۔

پانچ سال سے زائد عرصے سے جاری شام کی لڑائی میں حکومت اور باغی دونوں ہی ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔

اس جاری تحقیقات کے دوران تین کیمیائی حملوں کا ذمہ دار شامی حکومت اور ایک کا شدت پسند گروپ داعش کو قرار دیا گیا ہے۔ دیگر پانچ مبینہ کیمیائی حملوں کے ذمہ داران کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

قمیناس کے علاوہ ماہرین نے شام کی حکومت پر دیگر دو کیمیائی حملوں کا بھی الزام عائد کیا تھا جس میں 21 اپریل 2014ء میں معرۃ نعمان کے گاؤں تلمینس اور 16 مارچ 2015ء میں سرمین کے حملے شامل ہیں۔

ماہرین 2014ء میں حما کے علاقے کفر زیتا میں ہونے والے بیرل بم حملوں کے ذمہ داروں کا تاحال تعین نہیں کر سکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG