رسائی کے لنکس

ہارمونز جو کہ قدرتی طور پر انسان میں بھی پائے جاتے ہیں اور ماہرین کے مطابق اگر جانوروں کے گوشت اور دودھ میں یہ کیمیائی اجزاء زائد مقدار میں موجود ہوں تو انسانی جسم میں داخل ہونے پر بچوں میں جلد بلوغیت اور بڑوں میں کچھ قسم کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں

جب صحت مند طرز زندگی کا ذکر ہوتا تھا تو سنتے تھے کہ کچھ لوگ کھانے کے لئے جیتے ہیں اور کچھ جینے کے لئے کھاتے ہیں۔ اور، ماہرین کی رائے یہی ہوتی تھی کہ زندہ رہنے کے لئے کھانا ضروری ہے۔

حاصل کلام یہ کہ، صحت مند متوازن غذا جسم کی ضرورت کے مطابق کھائی جائے۔ لیکن، زندگی کا مقصد ہی کھانے کو نہ بنا لیا جائے۔

آج جو لوگ جینے کے لئے کھاتے ہیں، ان میں بھی اب دو قسمیں ہیں۔۔۔ایک وہ ہیں جو جینے کے لئے کھاتے ہیں اور دوسرے وہ جو مرنے کے لئے!

ظاہر ہے کہ انسان جان بوجھ کر تو ایسی غذا نہیں کھاتا جس سے اس کی موت واقع ہو جائے۔ لیکن، جیسے کچھ لوگ تمباکو نوشی جیسی مضر صحت عادات اپناتے ہیں، ویسے ہی، کچھ لوگ صحت کے لئے نقصان دہ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں، جیسے کہ مرغن اور جراثیم سے آلودہ باہر کا کھانا۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی دانست میں تو صحت بخش غذا کا انتخاب کرتے ہیں، جیسے کہ گائے کے گوشت کی بجائے مرغی کا گوشت۔

آج کل مرغی کا گوشت سستا ہونے کی بنا پر اتنی زیادہ مقدار میں استعمال ہوتا ہے کہ اس کی افزائش کے لئے استعمال ہونے والے پولٹری فارمز میں کم جگہ میں بہت زیادہ مرغیاں پالی جاتی ہیں۔ اور ماہرین کے مطابق، اتنے قریب قریب ہونے کی وجہ سے ان مرغیوں میں بیماریوں کے پیدا ہونے اور آپس میں پھیلنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور یہ جراثیم انسانوں کو بھی مختلف بیماریوں کا شکار بنا سکتے ہیں۔

غذا کے لئے استعمال ہونے والے جانوروں جیسے کہ مرغیوں اور گائیوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لئے اینٹی بایؤٹک دوائیں دی جاتی ہیں۔ اینٹی بایؤٹک دوائیں انسانوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور ان دواوٴں کے غیر منصفانہ استعمال سے جراثیم کی ایسی نسلیں سامنے آتی ہیں کہ جن پر کوئی دوا آسانی سے اثر نہیں کرتی؛ اور ماہرین کے مطابق، غذا کے لئے استعمال ہونے والے جانوروں میں اینٹی باؤٹک کے زیادہ اور غیر منصفانہ استعمال سے سامنے آنے والے یہ ڈھیٹ جراثیم انسانوں کو بیمار کر رہے ہیں اور ایک مسئلہ بنتے جارہے ہیں جو کہ سنگین صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔

صارفین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے اداروں کو غذا کے لئے استعمال ہونے والے جانوروں کو دئے جانے والے دوسرے کیمیائی اجزاء پر بھی تشویش ہے جیسے کہ جانوروں سے حاصل ہونے والے گوشت اور دودھ کی مقدار کو بڑھانے کے لئے انھیں دئے جانے والے ہارمونز جو کہ قدرتی طور پر انسان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر جانوروں کے گوشت اور دودھ میں یہ کیمیائی اجزاء زائد مقدار میں موجود ہوں تو انسانی جسم میں داخل ہونے پر بچوں میں جلد بلوغیت اور بڑوں میں کچھ قسم کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔

کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں ہر عمر اور جنس کے مریضوں کے تمام امراض کے شعبے، یعنی، فیملی میڈیسن کی ماہر، ڈاکٹر ثمینا شاھ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کو دئے جانے والے کیمیائی اجزا انسانی جسم میں جا کر اپنا اثر دکھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر، جب ان اجزا کی مقدار زیادہ ہو اور اس آلودہ کھانے کے استعمال کا دورانیہ طویل ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی رپورٹس ضرور ہیں کہ جانوروں پہ استعمال ہونے والی ادویات اور ہارمونز نامی کیمیائی اجزاء لوگوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ لیکن، اس پر تحقیق کی کمی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شاید یہ اتنا بڑا کاروبار ہے اور اس سے اتنے زیادہ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے کہ اس مالدار اور طاقتور صنعت پہ کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ حالانکہ، محکمہٴصحت کو اس پر کام کرنا چاہئے۔

کینیڈا جو کہ ایک ترقی یافتہ فلاحی ریاست ہے وہاں بھی جانوروں اور پودوں پر کیمیائی اجزاء کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن، ’ایٹ رائٹ انٹیریو‘ نامی ویب سائٹ کے مطابق، ان اجزاء کے استعمال کا مقصد صحت مند اور سستے جانوروں کی افزائش ہے۔ لیکن، اس میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق، کینیڈا میں جس گائے سے دودھ حاصل کرنا ہو اس کو ہارمونز نہیں لگائے جاتے صرف ان گایؤں کو ہارمونز دئے جاتے ہیں جن کی جسامت بڑھانا مقصود ہو، تاکہ ان سے زیادہ گوشت حاصل ہو۔ اگر گائے کو بیماری میں انٹی بایؤٹک دی جا رہی ہو تو اس دوران اس کا دودھ نہیں بیچا جاتا اور اگر مرغیوں کو دی جا رہی ہو تو ان کے انڈے پھینک دئے جاتے ہیں۔

’ایٹ رائٹ انٹیریو‘ کے مطابق، غذا کے لئے استعمال ہونے والے جانوروں پہ استعمال ہونے والے کیمیائی اجزاء سے انسانوں کو مختلف بیماریاں لاحق ہونے کے خدشات ہیں، گو کہ اب تک کی تحقیق سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی۔ لیکن، حکومت کھانوں میں ان اجزاء کی مقدار پر نظر رکھتی ہے اور اگر کھانے میں یہ مقدار زیادہ ہو تو اس کو بازار میں بکنے سے روک دیا جاتا ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر پاکستان میں پولٹری فارم اور بھینس باڑے کے مالکان نے یہاں ہر قسم کے جانور پر غیر منصفانہ اور بے تحاشہ کیمیائی اجزاء کے استعمال کا اقرار کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان دواوٴں کے استعمال کے دوران جانوروں کا دودھ، گوشت اور انڈے سب کچھ فروخت کیا جاتا ہے۔

جب تک تحقیق سے یہ بات ثابت نہ ہوجائے کہ جانوروں پر استعمال ہونے والے یہ کیمیائی اجزاء انسانوں کے لئے نقصاندہ ہیں، اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ترقی یافتہ ممالک میں آرگینک کھانے، یعنی جو قدرتی طریقے سے بغیر کیمیائی اجزا کے افزائش پاتی ہیں، وہ استعمال کی جائیں۔ اور یوں، ماہرین کی رائے میں کیمیائی اجزاء سے بچنا چاہئے۔

XS
SM
MD
LG