رسائی کے لنکس

’ہماری بچی کی سمجھو پوری زندگی ختم ہوگئی۔ مگر آئندہ کسی اور کی بچی کو تیزاب سے نا نشانہ بنایا جائے۔ اسکے لئے، ملزم کو سزا ضرور دلوائیں گے۔ دوسروں کی بچی کے چہرے بچانے کیلئے ہم چپ نہیں بیٹھیں گے‘

کراچی: ​پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی ایک نوجوان خاتون کی عید کی خوشیاں اس وقت اذیت ناک کرب میں تبدیل ہوگئیں جب اسکے سابقہ منگیتر نے اسےتیزاب سے جھلسا دیا۔

چاند رات کو جب سارا شہر عید کی تیاریوں میں مگن تھا، وہیں نوجوان اور اسکے گھر والوں پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔

گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے گلشن اقبال کی رہائشی نوجوان لڑکی تیزاب گردی کا شکار ہوئی جو جھلسی ہوئی حالت میں شہر کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، تیزاب کا شکار نوجوان خاتون کا 80 فیصد جسم بری طرح جھلس چکا ہے۔

پولیس کے مطابق، متاثرہ لڑکی پر تیزاب پھینکے والا اسکا سابقہ منگیتر ہے جس نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ لڑکی کے گھر والوں نے منگنی توڑ دی تھی، اسلئے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ پولیس کے مطابق، تیزاب کے اس حملے میں لڑکی سمیت اسکا بھائی اور بھتیجا بھی جھلس گئے ہیں، جنھیں اسپتال داخل کیا گیا۔

پولیس ذرائع نےبتایا ہے کہ نوجوان لڑکی کو تیزاب کا نشانہ بنانے والے ملزم کو پولیس نے بروقت کاروائی کرکے فوری طور پر گرفتار کرلیا گیا۔ تفتتیش کے بعد عدالت سزا سنائےگی۔

تیزاب گردی کا شکار ہونے والی متاثرہ لڑکی کے تیزاب سے جھلسا دینے پر اسکے چچا محمد سہیل نے وی او اےکی نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری بچی کی سمجھو پوری زندگی ختم ہوگئی۔ مگر آئندہ کسی اور کی بچی کو تیزاب سے نا نشانہ بنایا جائے۔ اسکے لئے ملزم کو سزا ضرور دلوائین گے۔ دوسروں کی بچی کے چہرے بچانے کیلئے ہم چپ نہیں بیٹھیں گے‘۔

متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ نے بتایا کہ، ’ان کی بیٹی عید کی تیاری کیلئے اپنے بھائی بھتیجے کے ہمراہ مہندی لگوانے نکلی تھی کہ اسکے سابقہ منگیتر نے اس پر تیزاب کی بوتل انڈیل دی، جس سے اسکے ساتھ بھائی اور چھوٹا بھتیجا بھی زخمی ہوئے ہیں‘۔

انھون نے مزید بتایا کہ’ایک سال قبل انھوں نے اپنی بیٹی کی منگنی اس لڑکے سے کی تھی۔ رشتے کے دوران زیادہ چھان بھی نہیں کی۔ منگنی کے بعد معلوم ہوا کے ان کے گھر کا ماحول اچھا نہیں ہے۔ تو ہم نے منگنی ختم کردی جس کا اس لڑکے کو غصہ تھا۔ منگنی توڑ دینے اور شادی سے انکار کا بدلہ لینے کیلئے اس نے تیزاب پھینکا‘۔

پاکستان میں خواتین پر ہونےوالے مظالم میں سب سے اذیت ناک تشدد تیزاب سے جھلسا دینا ہے، جس سے چہرہ سمیت جسم کے دیگر اعضا بھی سخت متاثر ہوتے ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے پاکستان میں ایسے متعدد کیسز سامنے آچکے ہیں جسمیں خواتین اور لڑکیوں پر آپسی رنجشوں کے باعث تیزاب پھینک دیا گیا جس سے کئی خواتین متاثر ہوچکی ہیں۔

پاکستان میں تیزاب گرد حملے جیسے خطرناک تشدد کے خلاف قانون کے مطابق تیزاب پھینکنے والے ملزم کیلئے 14 برس قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں مختص ہیں۔دوسری جانب، تیزاب کی کھلے عام فروخت پر بھی پابندی برقرار ہے اسکے باوجود تیزاب جیسے حملے سامنےآنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہیں۔

XS
SM
MD
LG