رسائی کے لنکس

بلقیس ایدھی، پاکستان کی 'مدر ٹریسا'


فائل

فائل

اطلاعات کے مطابق، 'ایدھی فاؤنڈیشن' کے سربراہ عبدالستار ایدھی کی اہلیہ کو یہ ایوارڈ بھارتی لڑکی گیتا کی ’بہترین دیکھ بھال‘ سے لےکر اسے اپنے ملک واپس پہنچانے میں بلقیس ایدھی کی خدمات پر 'مدرٹریسا میموریل ایوارڈ' دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے

کراچی: ​حال ہی میں پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے روح رواں عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی کو ان کی خدمات پر ’مدر ٹریسا میموریل ایوارڈ برائے 2015ء" دئے جانے کا اعلان سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ایوارڈ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’بلقیس ایدھی کو قوت گویائی و سماعت سے محروم بھارتی لڑکی کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنے پر انھیں مدرٹریسا ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

یہ بات ’ہارمنی فاؤنڈیشن کی جانب سے کہی گئی ہے۔

ہارمنی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ’بلقیس ایدھی کو غلطی سے بھارت کی سرحد پار کرکے پاکستان جانےوالی لڑکی گیتا کی دیکھ بھال، اسکی مذہبی اقدار کو برقرار رکھ کر واپس بھارت پہنچانے اور پاکستان میں فلاحی خدمات دینے پر پیش کیا جائے گا‘۔

اس حوالے سے، ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بلقیس ایدھی کا کہنا ہے کہ ’گیتا میری بیٹیوں جیسی تھی۔ میں اب تک 225 لڑکیوں کی شادی کر چکی ہوں۔ گیتا بھی اپنے ملک 'بدا' ہوگئی ہے‘۔

بقول اُن کے، ’ہم گیتا کو بھارت چھوڑ کر آگئے ہیں۔ گیتا کی دیکھ بھال کرنے کے باعث ایک ایوارڈ سے سراہے جانا بہت خوشی کی بات ہے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ لینے کے لیے، وہ 22 نومبر کو بھارت جائیں گی۔

گیتا کے بارے میں، سوال پر بلقیس ایدھی کا مزید کہنا تھا کہ’بھارت جا کر گیتا بہت خوش تھی۔ اب ماں باپ مل جائیں گے تو گیتا اور خوش ہوگی‘

بلقیس ایدھی نے گیتا کی دیکھ بھال اور اسے بھارت پہنچانے تک اہم کردار نبھایاہے

بلقیس ایدھی نے گیتا کی دیکھ بھال اور اسے بھارت پہنچانے تک اہم کردار نبھایاہے

​گیتا کے ماں باپ کی تلاش جاری ہے جب تک انڈور میں ایک گرلز ہاسٹل میں رہے گی۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ ’ایدھی ہوم میں گیتا 15 سال کے لگ بھگ رہی۔ اسکی دیکھ بھال میں ہماری طرف سے کسی چیز کی کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ یہاں تک کہ ایدھی ہوم میں گیتا کو ایک مندر بھی بناکر دیا گیا تھا‘۔

گیتا ایدھی ہوم میں 15 برس رہی اور بلقیس ایدھی کو اپنی منہ بولی ماں اور عبدالستار ایدھی کو منہ بولے والد کے طور پر دیکھتی تھی۔

بلقیس ایدھی نے بتایا کہ ’ ایک نرس کے طور پر، 1964ء میں ایدھی سینٹر میں شمولیت اختیار کی؛ اور دو سال بعد عبدالستار ایدھی سے شادی ہوگئی اور یہیں رہتی اور فلاحی کام کرتی رہی ہیں‘۔

بلقیس ایدھی کی مثالی شخصیت

بلقیس ایدھی کا پورا نام بلقیس بانو ہے، بقول اُن کے، ’ملک میں سب سے بڑے فلاحی ادارے کے بانی کی اہلیہ کے طور پر اور ان کے ساتھ ہر فلاحی خدمت مین ساتھ دینے پر، مجھے ہمیشہ افسوس تو رہا کہ میں پڑھی لکھی زیادہ نہیں، مگر میں نے اپنی خدمت کے کاموں سے پاکستانی شہری ہونے کا حق ادا کر دیا ہے‘۔

بلقیس ایدھی فاونڈیشن کی بانی اپنی فلاحی خدمات سے مطمئن ہیں۔

اس حوالے سے اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نرسنگ کے شعبے سے کام شروع کیا تھا۔ اپنی خدمات سے مطمئن ہوں جو بھلا ہو سکے کرتی ہوں۔ ہمارا کام انسانیت کی فلاح ہے۔ اور ایسی خواتین بچوں کی کفالت کرنا ہے جو کسی نا کسی مسئلے کی وجوہات کے باعث اپنا بسا بسایا گھر چھوڑ کر ایدھی ہوم کا رخ کرتے ہیں۔ پھر ان کے کھانے پینے، رہنے سے لےکر ان کی شادیاں کرانے اور ان کو ایک نئی پہچان دینے تک کی ساری خدمت بلقیس ایدھی سے منسوب بلقیس ایدھی فاونڈیشن میں کیجاتی ہے‘۔

فلاح انسانیت کے لئے دنیا بھر میں کام کرنےوالی شخصیات میں مدر ٹریسا ایک بڑا نام ہے، جنھوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار دی تھی۔

مدر ٹریسا ایوارڈ دنیا میں کام کرنے والے ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جو انفرادی یا اجتماعی طور پر امن، برابری، معاشی انصاف اور معاشرے میں کسی نا کسی طرح بہتری کے کام سرانجام دے رہے ہوں۔

XS
SM
MD
LG