رسائی کے لنکس

ایران میں صحافیوں کی ان گرفتاریوں کو تجزیہ کار فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل مخالفین کے خلاف حکومت کے کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دے رہے ہیں

ایران کی ایک نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے اظہارِ رائے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں کم از کم پانچ مقامی صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

'فارس' نیوز ایجنسی نے منگل کو جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں حراست میں لیے جانے والے دو صحافیوں کے نام عیسیٰ سحر خیز اور احسان مزندارانی بتائے ہیں۔ جب کہ باقی تین صحافیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

عیسیٰ سحر خیز کو ایرانی حکومت نے 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد چلنے والی احتجاجی تحریک کے دوران بھی حراست میں لیا تھا اور وہ لگ بھگ پانچ سال قید کاٹنے کے بعد 2013ء میں رہا ہوئے تھے۔

'فارس' کے مطابق احسان مزندارانی ایک معتدل نظریات کے حامل جریدے 'فرحیختگان' کے مدیرِ اعلیٰ ہیں اور وہ بھی اس سے قبل 2012ء میں حکومتی حراست میں رہ چکےہیں۔

'فارس' کی رپورٹ کے مطابق ان دو صحافیوں کی گرفتاری سے قبل حکام نے حالیہ ہفتوں کے دوران دو شعرا اور ایک فلم ساز کو بھی حراست میں لیا تھا۔

تاحال ایرانی حکومت نے ان افراد کی گرفتاری اور ان پر عائد الزامات کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ واضح ہوسکا ہے کہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کب تک شروع ہوگی۔

ایران میں صحافیوں کی ان گرفتاریوں کو تجزیہ کار فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل مخالفین کے خلاف حکومت کے کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد معتدل نظریات کی حامل حزبِ اختلاف کا دائرۂ اثر محدود کرنا ہوسکتا ہے۔

بین الاقوامی اداروں کے مطابق ایران کا شمار دنیا کے ان سرِ فہرست ممالک میں ہوتا ہے جہاں آزادیٔ اظہارِ رائے کی صورتِ حال خاصی خراب ہے اور اختلافِ رائے اور تنقید کرنے پر صحافیوں کو حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG