رسائی کے لنکس

صدر اوباما کے خطاب پر صدارتی اُمیدواروں کا ملا جلا ردعمل


ڈونلڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)

ڈونلڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)

رپبلیکن پارٹی کے صف اول کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میری یادداشت کے مطابق  سب سے زیادہ اکتانے والا، بلا وجہ طویل اور بغیر ٹھوس مواد کے تھا۔‘‘

صدارتی دوڑ کے لیے رپبلیکن جماعت کی نامزدگی کے امیدواروں نے صدر براک اوباما کے منگل کی رات کیے جانے والے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کو تازہ ترین عالمی حالات سے مطابقت نہ رکھنے والا اور ’بیزار کن‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے صدر کے ریکارڈ کی تعریف کی۔

رپبلیکن پارٹی کے صف اول کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر کی تقریر سست تھی ’’جسے دیکھنا مشکل‘‘ تھا۔

ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’یہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میری یادداشت کے مطابق سب سے زیادہ اکتانے والا، بلا وجہ طویل اور بغیر ٹھوس مواد کے تھا۔‘‘

ٹیکساس سے سینیٹر ٹیڈ کروز جن کی مقبولیت میں گزشتہ دو ماہ کے دوران اضافہ ہوا ہے نے اوباما کی تقریر کو ’’اسٹیٹ آف ڈینائل‘‘ یعنی ’’حقیقت سے انکار کی حالت‘‘ قرار دیا۔

کروز نے کہا کہ اوباما نے داعش کی طرف سے درپیش خطرے کو کم کر کے پیش کیا ہے اور پیرس اور کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں گزشتہ سال ہونے والے حملوں کا تذکرہ نہیں کیا۔

صدارتی نامزدگی کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرس نے کہا کہ وہ صدر اوباما کے خیالات سے متفق ہیں۔

’’آج کی تقریر اہم تھی۔ صدر نے ہمیں یاد دلایا کہ ہم تبدیلی سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ اسے سب امریکیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا ہتھیار بنائیں۔‘‘

ہلری کلنٹن نے تقریر کے داخلی معاملات سے متعلق حصوں پر توجہ مرکوز کی اور ٹوئیٹر پر ’’ترقی کے سات سالوں‘‘ پر صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو پیچھے جانے کی بجائے مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

’’(اوباما) نے معیشت کو مضبوط اور ملک کو محفوظ رکھا۔ یہی صدر کو کرنا چاہیئے۔ یہی اس کا کام ہے۔‘‘

تاہم رپبلیکن پارٹی کی نامزدگی کے امیدوار ٹیکساس کے سابق گورنر جیب بش صدر اوباما کے امریکی معیشت کی مضبوطی اور عوام کی سلامتی کے دعووں کو اس نظر سے نہیں دیکھتے۔

’’صدر اوباما شاید ایک اور دنیا میں رہ رہے ہیں اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا ملک زیادہ محفوظ اور مضبوط ہے۔ ملک کی معیشت کے لیے شاید یہ صدر اوباما کی بہترین کارکردگی ہے مگر یہ امریکہ کی بہترین کارکردگی نہیں۔‘‘

صدر اوباما کے خطاب کا ایک حصہ عالمی حدت پر قابو پانے کے متعلق تھا جس میں انہوں نے ملازمتیں پیدا کرنے، پیسے بچانے اور کرہ ارض کو محفوظ بنانے کا ذکر کیا۔

مگر رپبلیکن نامزدگی کے سابق امیدوار بین کارسن نے کہا کہ اوباما کو عالمی حدت کے بارے میں کم اور داعش کو شکست دینے کے متعلق زیادہ سوچنا چاہیئے۔ انہوں نے ایران میں امریکی نیوی کے 10 اہلکاروں کی حراست پر بات کرنے کی بجائے عالمی حدت کے بارے میں شکایت کرنے پر بھی صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

XS
SM
MD
LG