رسائی کے لنکس

ریپبلیکن کانگریس، عالمی معاملات اور اوباما سے اختلاف رائے


فائل

فائل

ایران کے جوہری عزائم پر کانگریس کی فکرمندی نئی بات نہیں۔ چند ہی ہفتے قبل تک کانگریس میں کوئی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ صدر اوباما ڈرامائی طور پر کیوبا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی طرف آگے بڑھیں گے

اگلے ہفتے جب قانون ساز واشنگٹن واپس پہنچیں گے، ریپبلیکن پارٹی کی قیادت والا امریکی ایوانِ نمائندگان درپیش عالمی مسائل اور اُن سے نمٹنے کی امریکی حکمت عملی پر غور کرے گا۔ یوکرین سے مشرق وسطیٰ تک کے تنازعات قانون سازوں کے توجہ طلب ہوں گے، ایسے میں جب صدر براک اوباما نے اعلیٰ ترین سطح کی بین الاقوامی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں۔

ایک ہفتہ بعد جب کانگریس کی تشکیل نو مکمل ہوگی، ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بوب کروکر اُن لوگوں میں شامل ہیں جنھیں اِس سلسلے میں اختیار کی گئی پالیسی پر شبہات لاحق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں، ایران پر سخت قسم کی تعزیرات لاگو کرنے پر غور ہوگا۔

بقول اُن کے، پہلے ہی سال کے دوران، کانگریس کی خواہش ہوگی کہ یہ معاملہ کسی طرح فوری طور پر حل ہو سکے۔ کانگریس اس بات کی خواہاں ہوگی کہ ایران سے متعلق معاہدے پر معاملات طے پائیں۔

ایران کے جوہری عزائم پر کانگریس کی فکرمندی نئی بات نہیں۔ چند ہی ہفتے قبل تک کانگریس میں کوئی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ صدر اوباما ڈرامائی طور پر کیوبا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی طرف آگے بڑھیں گے۔

کیوبا کے خلاف لاگو امریکی تعزیرات کے خاتمے کے لیے کانگریس کے اقدام کی ضرورت پڑے گی۔ ڈیموکریٹک سینیٹر بین کارڈن ایسے عمل کے حامی ہیں۔

کارڈن کے بقول، ’ضروری ہوگا کہ کانگریس کوئی اقدام کرے، جب کہ توقع یہی ہے کہ کیوبا کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھول رہے نہیں۔ اور یہ ایک دلچسپ مباحثہ ہوگا‘۔

ریپبلیکن سینیٹر مارکو روبیو ایسے مباحثے کے لیے تیار ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کانگریس پابندیاں نہیں اٹھائے گا۔ وائٹ ہاؤس سب باتوں پر رضامندی دکھا چکا ہے، جب کہ (ہوانا سے) کوئی چیز منوا نہیں پایا۔ آزادی صحافت، آزادی اظہار یا انتخابات کے سلسلے میں کیوبا کی حکومت سے کسی طرح کی کوئی یقین دہانی نہیں لی گئی‘۔

سیاسی سائنس داں، ویلیم ہویل کے بقول، ’ریپبلیکنز چاہتے ہیں کہ وہ تعمیری نوعیت کی نکتہ چینی سامنے لائیں‘۔

ہویل کے الفاظ میں، ’ایک طرف تو وہ اوباما انتظامیہ کی ناکامیوں کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں؛ دوسری طرف، وہ چاہتے ہیں کہ اُنھیں ذمہ دار لوگ سمجھا جائے، ایک منجھی ہوئی پارٹی جو ملک کی قیادت کی صلاحیت رکھتی ہے‘۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کا حصول ریپبلیکنز کی آواز کو تقویت دے گا اور وہ زیادہ تندہی کے ساتھ یوکرین سے لے کر عراق اور شام میں داعش کی بغاوت کی طرح کے بحرانوں سے نبردآزما ہونے کی صدر کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کر سکیں گے۔

سیاسی تجزیہ کار، اسٹوئرٹ روتھنبرگ کے مطابق، ’خود اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر کے حلقے بھی اوباما سے اختلاف رائے رکھتے ہیں‘۔

XS
SM
MD
LG