رسائی کے لنکس

نئی تحقیق کے مطابق انسانی ناک کے نتھنوں میں دریافت کیا جانے والا بیکٹریا ایک اینٹی بایوٹک مرکب پیدا کرتا ہے، جو کئی خطرناک پیتھوجینز، سپر بگ سمیت سب سے سخت جان جرثومے 'ایم آر ایس' کو مار سکتا ہے، جن پر تمام اینٹی بایوٹکس ادوایات بے اثر ہیں

جرمنی کے سائنس دانوں نے انسانی ناک میں پایا جانے والا ایک بیکٹیریا دریافت کیا ہےجو اینٹی بایوٹک کا کام دیتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کا بسیرا ہماری ناک میں ہوتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق انسانی ناک کے نتھنوں میں دریافت کیا جانے والا بیکٹریا ایک اینٹی بایوٹک مرکب پیدا کرتا ہے، جو کئی خطرناک پیتھوجینز، سپر بگ سمیت سب سے سخت جان جرثومے 'ایم آر ایس' کو مار سکتا ہے، جن پر تمام اینٹی بایوٹکس ادوایات بے اثر ہیں۔

ابتدائی مرحلے کے نتائج جریدہ 'نیچر' کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ محققین انسانوں کی ناک میں پائے جانے والے ایک بیکٹیریا کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اس علم کو ادویات سے مزاحم انفیکشنز سے لڑنے کے لیے ممکنہ نئی اینٹی بایوٹک دوا 'لگڈنن' بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

تحقیق کی بنیاد:

اینٹی بایوٹک سے مزاحمت ایک عالمی صحت کا مسئلہ ہے اور اس کی معروف مثال ایم آر ایس اے جرثومہ ہے، کیونکہ یہ پینسلین ادویات پر ردعمل ظاہر نہیں کرتا ہے۔

سپر بگ ایسے جراثیم کو کہا جاتا ہے جن کے خلاف متعدد اقسام کی اینٹی بایوٹکس ادوایات اثر نہیں کرتیں، جبکہ ایم آر ایس اے اسپتالوں سے منتقل ہونے والے انفیکشنز میں سے ایک ہے۔

جرمنی کی توبنجن یونیورسٹی کی قیادت میں کی جانے والی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بیکٹریا قدرتی طور پر ہمارے جسم میں موجود ہیں اور مختلف طرح کےجرثوموں کے ساتھ مسلسل مقابلہ میں ہیں جبکہ نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سےکچھ حریف جرثوموں کو مارنے کے لیے دافع جراثیم یا اینٹی بیکٹیریل قسم کا مادہ تیار کرتے ہیں اور اسی پر نئی تحقیق کی بنیاد ہے۔

محققین نے کیا دریافت کیا:

لیبارٹری مطالعہ کا مقصد اسٹیفالوکوکس اورئیس بیکٹریا گروپ (ایم آر ایس اے انفیکشنز )کو روکنے کے لیے نئی اینٹی بایوٹکس تیار کرنا تھا۔

نئی تحقیق میں محققین کو انسانی جسم میں اسیٹفالوکوکس اورئیس کےخاتمے کے لیے اینٹی بایوٹک کمپاونڈ ملا ہےجو قدرتی طور پر ناک کے نتھنوں ،جلد اور سانس کی نالیوں میں پایا جاتا ہے۔

یہ جراثیم ایک تہائی آبادی کی ناک میں پایا جاتا ہے اور 70 فیصد آبادی کے ناک میں یہ جرثومہ نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ زیادہ تر کیسسز میں یہ بیکٹریا تشویش کا باعث نہیں تھا لیکن حالیہ دہائیوں میں اس جراثیم نے عام استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس ادویات سے مزاحمت تیار کی ہے۔

محققین کو انسانی ناک میں ایک دوسرا جراثیم اسٹیفالوکوکس لگڈننسس کی قسم بھی ملی ہے، جو اورئیس جراثیم کے ہمراہ ناک میں رہتا ہے اور اپنی بقا کی لڑائی میں مخالف جراثیم کو مارنے کے لیےدافع جراثیم خامروں کی پیداوار کرتا ہے۔

ناک کے جراثیم ہماری مدد کے لیے اینٹی بایوٹک تیار کرتے ہیں:

حیرت انگیز اینٹی بایوٹک لگڈنن ناک کے رہائشی جراثیم اسٹیفالوکوکس لگڈننسس کی طرف سے تیار کی جاتی ہے۔

محققین نے اسپتالوں کے 187 مریضوں کے ناک کے پھائے تجزیہ کئےجس سے انھیں پتا چلا کہ جن کی ناک میں لگڈننسس بیکٹریا تھا ان لوگوں میں سے صرف5.9 فیصد میں ممکنہ وبائی بیکٹریا کو پناہ دی تھی۔

اور جن مریضوں کی ناک میں لگڈننسس بیکٹریا نہیں ملا ان میں 34.7فیصد اورئیس بیکٹریا پائے گئے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی ناک میں یہ جراثیم اورئیس جرثوموں سے دور رہنے میں مدد دیتا ہے۔

ایسے وقت میں جب دنیا اینٹی بایوٹکس ادویات کےخلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم کے خلاف جنگ ہار رہی ہے وہیں یہ بلاشبہ ایک حیرت انگیز دریافت ہے۔

سائنس دانوں نے اس معلومات کے ساتھ کیا کیا:

نئے مطالعے میں محققین نے اس کے پیچھے چھپے جینیاتی میکانزم کی نشاندھی کی ہے اور کئی طرح کے لگڈنینس جرثوموں کا استعمال کرتے ہوئے اس کے جینیاتی کوڈ کو پتا لگایا ہے اور اس طریقے سے انھوں نےاس جین کا پتا لگایا ہے جس میں نئی اینٹی بایوٹک کو تیار کرنے کی ہدایات موجود تھی۔

اور وہاں سے جینیاتی انجنیرنگ کے ذریعے ایک مصفا کمپاونڈ 'لگڈنن‘ حاصل کیا ہے۔

کیا انسانی مائیکرو بایوم میں یہ پہلی اینٹی بایوٹک دریافت ہے:

اس کا جواب نہیں ہے کیونکہ پچھلے چند سالوں میں ہم نے یہ سیکھا ہے کہ انسانی مائیکروبایوم میں بیکٹریا اچھے اور برے اثرات والے مرکبات پیدا کرسکتے ہیں۔

جرمنی کی توبنجن یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کے سربراہ اینڈریاس پیشیل کے مطابق ناک ہمارے جسم میں بہت سے وائرل انفیکشن کا مرکز ہے اور ناک کی جھلی 50 سے زائد بیکٹریا کی اقسام کا گھرہے یہی وجہ تھی کہ ہم نے جسم کے اس مخصوص حصے کو دیکھا ہے۔

اور اس مطالعے نے ہمیں کچھ بہت غیر متوقع اور دلچسپ نتائج فراہم کئے ہیں جو اینٹی بایوٹکس کی تیاری کے لیے نئے تصورات کی تلاش میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دریافت کی جانے والی اب تک اینٹی بایوٹکس مٹی میں پائے جانے والے بیکٹریا اور ماحولیاتی بیکٹریا میں ہوئی تھیں اور آخری بار اینٹی بایوٹکس کی نئی قسم 1980 میں دریافت ہوئی تھی۔ جبکہ محققین کا کہنا تھا کہ نئی دریافت میں انسانی جسم میں پائے جانے والے مختلف اقسام کےخوردبینی جرثومے جنھیں مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے،کی متبادل ذریعے کے طور پر اہمیت پر نظر ڈالی گئی ہے۔

نئی اینٹی بایوٹک کس طرح کام کرتی ہے:

نئی دریافت کو لگڈنن نام دینے سے متعلق جرمن محققین نے بتایا کہ یہ پیپٹائڈ اینٹی بایوٹک کی ایک نئی قسم کی پہلی عام مثال ہے۔

انھوں نے پہلے انسانی خون کے نمونوں اور پھر چوہوں اور ناک کے پھائےکامیاب تجربات کئے اور ثابت کیا کہ لگڈیونین اسٹیفالوکوکس انفیکشنز کو کم کرسکتا ہے۔

چوہوں کے ساتھ تجربات کے دوران محقق اینڈریاس کی ٹیم موثر طریقے سے اس کے ساتھ جلد کے انفیکشن کے علاج کرنے کے قابل تھی۔

انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ اینٹی بایوٹکس ادویات سے مزاحم اسٹیفالوکوکس اورئیس یا ایم آر ایس اے اور مثبت بیکٹریا کی وسیع اقسام کے لیے موثر تھا۔

XS
SM
MD
LG