رسائی کے لنکس

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد آٹزم میں مبتلا ہوتے ہیں انہیں عموماً ہاضمے کی شکایات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق، ایسے بچے جو آٹزم میں مبتلا ہیں ان میں غذائی نالی کے جرثوموں کی تعداد دوسرے بچوں کی بنسبت کم ہوتی ہے۔ غذائی نالی کے جرثوموں کے لیے انگریزی میں gut microbes کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

آٹزم ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کی ابلاغ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ سماجی سطح پر بہتر ابلاغ نہیں کر سکتا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد آٹزم میں مبتلا ہوتے ہیں انہیں عموماً ہاضمے سے متعلق شکایات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق جو بچے اور نوجوان آٹزم کے مرض میں مبتلا ہیں، انہیں عموماً نظام ِہضم سے متعلق مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ جب آٹزم کے شکار بچوں نے اپنی خوراک میں سے گندم اور دودھ سے بنی اشیاء سے پرہیز کی، ان کے ہاضمے کی خرابی کی شکایت جاتی رہی اور انہیں اپنے روزمرہ موڈ میں بھی بتدریج بہتری کے آثار دکھائی دئیے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بعض اوقات خوراک انسان کے نظام ہضم میں ان بیکٹیریا اور مائیکروبز یا جرثوموں کو متاثر کرتی ہے جو انسانی نظام ہضم میں موجود ہوتے ہیں۔

انسان کے نظام ہضم میں کھربوں جرثومے پائے جاتے ہیں۔ ان میں ’اچھے جرثومے‘ بھی پائے جاتے ہیں اور ’خراب جرثومے‘ بھی پائے جاتے ہیں۔ اچھے جرثومے معدے کے لیے اچھے ہوتے ہیں اور بیکار جرثوموں کا دفاع کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں آٹزم کے شکار بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کے ادارہ برائے تدارک ِامراض کے مطابق، امریکہ میں 2000ء کے بعد سے اب تک آٹزم کے شکار بچوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ بچوں میں آٹزم کی علامات میں سماجی روابط میں مسائل، ذہنی رو کا بھٹکنا اور ہر وقت پریشانی میں مبتلا رہنا شامل ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق جو بچے آٹزم کا شکار ہیں، ان کے نظام ہضم کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ ان بچوں میں دوسرے بچوں کی بنسبت جرثوموں کی تعداد کم تھی۔ ان بچوں میں ’پریووٹیلا‘ نامی جرثومہ کم پایا جاتا تھا جو ’خراب جرثوموں‘ کے خلاف مدافعت کرتا ہے۔

طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی اس مسئلے کی مزید گھتیاں سلجھنا باقی ہے اور آٹزم اور جرثوموں کے درمیان پائے جانے والے ربط پر مزید کام و تحقیق کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG