رسائی کے لنکس

خوشی کےموقع پر ہماری آنکھوں سے بہنے والے آنسو اہم ہیں کیونکہ اس طریقے سے ہمارا دماغ بے پناہ مسرت کے جذبات کو کنٹرول میں لانےکی کوشش کرتا ہے ۔

انسان کو یہ قدرت حاصل ہےکہ وہ اپنے جذبات کا اظہار آنسوں سےکرسکتا ہے۔ آنسوؤں کی اگرچہ کوئی زبان نہیں ہوتی ہے لیکن آنسوؤں کوغم کا ترجمان سمجھا جاتا ہے لیکن اکثرلوگ بہت زیادہ خوشی ملنے پر بھی فرط جذبات سے رو پڑتے ہیں۔ ایسےجذباتی آنسوؤں کی سائنسی توجہیہ کے حوالے سے ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ خوشی کےموقع پر ہماری آنکھوں سے بہنے والے آنسو اہم ہیں کیونکہ اس طریقےسے ہمارا دماغ بے پناہ مسرت کے جذبات کوکنٹرول میں لانےکی کوشش کرتا ہے اور جذباتی توازن کےنقصان کی تلافی کرتا ہے۔

'جرنل سائیکلوجی سائنس' میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق آنسو اس وقت بہتے ہیں جب لوگ خوشی کے طاقتور جذبات سے لبریز ہو جاتے ہیں، اورجو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اپنے شدید جذبات سےابھرنے میں زیادہ بہتر لگ رہے تھے یعنی یہ لوگ جلد ہی جذباتی کیفیت سے واپس آکر نارمل لگ رہے تھے۔

محققین نے خوشی کے موقع پرغم کے جذبات کی ترجمانی کرنے والے آنسوؤں کے حوالے سے کئی مثالوں کی نشاندہی کی ہے کہ اکثر شوہر سے طویل جدائی کے بعد ملاقات پر بیویاں رویا کرتی ہیں۔ اسی طرح لڑکیاں من پسند گلوکار کے کنسرٹ پر آنسو بہاتی نظر آتی ہیں یا پھرکھیل کےمیدان میں فیصلہ کن گول مارنے والا کھلاڑی اکثر و بیشترفرط جذبات سے مغلوب ہو کر سب کے سامنے رو پڑتا ہے۔

ییل یونیورسٹی کے ماہر نفسیات اور پروفیسر اراگون نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ آج تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں پوچھا کہ آخر لوگ خوشی کے جذبات کے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

اراگون کہتے ہیں کہ مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ لوگ اس طرح کے تاثرات کےاظہار سے دراصل اپنے جذباتی توازن کو بحال کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے اپنے تجربےمیں شرکاء کوکئی طرح کی صورت حال دیں جس میں انھوں نے دیکھا کہ لوگ چھوٹےبچے کو دیکھ کرکیسا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اورعرصہ دراز کے بعد ملنے والے قریبی ساتھی سے ملاقات کے موقع پرکس طرح اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور پھران کے جذباتی ردعمل کی سائنسی پڑتال کی۔

نتیجے سے پتا چلا کہ جن لوگوں نے خوشی کی خبرسننے کے بعد غم کے تاثرات کا اظہار کیا تھا وہ زیادہ تیزی سے فرط مسرت کے جذبات پرقابو پانے کے قابل تھے۔

نتیجے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جن لوگوں میں بچوں کے گریجویشن کے موقع پررونے کا امکان ظاہر ہوا انہی لوگوں میں ایک خوبصورت بچے کو دیکھ کر گال پرچٹکی بھرنے کا امکان بھی زیادہ تھا۔

پروفیسر اراگون نے کہا کہ ایسے سائنسی شواہد بھی موجود ہیں کہ انسان میں اکثرانتہائی پریشانی یا مصیبت کی حالت میں خوشی کے اظہار کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرکئی بار مصیبت کےحالات میں بے بسی محسوس کرتے ہوئے اکثر لوگ مسکرانا شروع کر دیتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے نتائج سے ان باتوں کی وضاحت ہوئی ہے کہ جو لوگ یہ انجانے میں کرتے ہیں لیکن وہ خود بھی ان باتوں کو سمجھ نہیں پاتے ہیں اسی طرح یہ سمجھنے میں آسانی ہوئی ہے کہ لوگ اپنے جذبات کا اظہار کیسے کرتے ہیں اور ان پرقابو کس طرح پاتے ہیں جبکہ اس بات کا ان کی ذہنی اورجسمانی صحت، دوسروں کے ساتھ تعلقات کے معیار اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر اچھا کام کرنے سے گہرا تعلق ہے۔

XS
SM
MD
LG