رسائی کے لنکس

اسلام آباد کے رہائشی دھرنوں سے نالاں


شہریوں کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشرے میں احتجاج کی آزادی ہر کسی کو حاصل ہے لیکن ہر چیز قاعدے اور قانون کے دائرے میں رہے تو بہتر ہوتا ہے۔

شہر اقتدار میں احتجاج اور دھرنے کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ برسوں میں ایسے دھرنے کہ جن کی وجہ سے نہ صرف عام شہریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں بلکہ کار سرکار بھی خلل کا شکار رہتے ہیں، کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد میں 2012ء کے بعد شہر کے انتہائی اہم اور حساس ترین علاقے "ریڈ زون" میں تین مرتبہ مختلف احتجاجی دھرنے دیکھنے میں آچکے ہیں جن کی انفرادی مدت چار روز سے لے کر 126 دن تک رہی ہے۔

اس دوران بعض اوقات پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں اور اس کے علاوہ احتجاج کرنے والوں کی طرف سے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں جس سے شہر میں کشیدگی اور خوف کی فضا رہی۔

حکومت وقت یہ کہتی ہے کہ اگر وہ طاقت کا استعمال کرتی ہے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اگر احتجاج کرنے والوں سے اس کے مذاکرات طویل ہوتے ہیں تو اسے کمزور قرار دے کر سخت سست سنائی جاتی ہیں۔

ایسی صورتحال اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے خاصی پریشان کن ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ایک رہائشی خضر کلاسرا کہتے ہیں۔

"حکومتیں اس طرح نہیں چلتیں کہ دو ہزار لوگ آکر بیٹھ جائیں اور پوری ریاست لیٹ جائے اور لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہونا شروع ہو جائیں۔"

ایک اور شہری عامر سہیل کہتے ہیں کہ بات چیت سے اگر معاملے کا حل نہ نکلے تو حکومت کی طرف سے طاقت کا استعمال کیے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشرے میں احتجاج کی آزادی ہر کسی کو حاصل ہے لیکن ہر چیز قاعدے اور قانون کے دائرے میں رہے تو بہتر ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG