رسائی کے لنکس

جمہوریت یا آمریت کسی ایک کا انتخاب کریں: گیلانی

  • یاسر منصوری

جمہوریت یا آمریت کسی ایک کا انتخاب کریں: گیلانی

جمہوریت یا آمریت کسی ایک کا انتخاب کریں: گیلانی

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک میں جمہوریت اور پارلیمان کو مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے حزب اختلاف جو بھی راستہ تجویز کرے گی وہ اُن کی حکومت کے لیے قابل قبول ہو گا کیوں کہ سیاسی عدم استحکام ملک کو غیر جمہوری راستے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

’’آپ یہ ایک فیصلہ کر لیں، یا تو ملک میں جمہوریت ہو گی یا اس ملک میں آمریت ہو گی۔‘‘

وزیر اعظم گیلانی کے بقول ممکن ہے کہ اُن کی حکومت سے غلطیاں ہوئی ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا خمیازہ جمہوریت اور پارلیمان بھگتے۔

’’آئین میں درج ہونا چاہیئے … کہ اگر اس قسم کے حالات ہوں تو کون فیصلہ کرے۔‘‘

حزب اختلاف کی جماعتوں اور مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سیاسی تبدیلی کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگر حزب اختلاف سمجھتی ہے کہ حکومت کے لیے آئین میں متعین کردہ پانچ سالہ مدت میں کمی ہونی چاہیئے تو وہ اس سلسلے میں ترمیم تجویز کرے۔

’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی مدت کم ہونی چاہیئے تو آپ کو دوسرا ادارہ کیوں کہے کہ آپ چار سال کے بعد چلے جائیں یا تین سال کے بعد چلے جائیں، آپ خود ہمیں کہیں کہ ہم آپ کو نہیں برداشت کر سکتے۔ یہ حق ہم آپ کو دے سکتے ہیں، یہ پارلیمنٹ کا حق ہے۔‘‘

اُن کا بظاہر اشارہ فوج کے طاقت ور ادارے کی طرف تھا جو ملک کی 64 سالہ تاریخ میں سے تقریباً نصب عرصے اقتدار میں رہی ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے اپنی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ وہ فوج یا عدلیہ سے تصادم نہیں چاہتی ہے۔

وزیر اعظم کی تقریر کے بعد حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے ملک کی سیاسی قیادت پر ’’مکمل اعتماد‘‘ کی قرار دار ایوان کے سامنے پیش کی۔

اُنھوں نے قرار داد کا متن بھی پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔

’’یہ ایوان جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی توثیق و حمایت اور سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔‘‘

اسفندیار ولی نے کہا کہ طاقت کا منبع عوام ہے اور پارلیمنٹ لوگوں کے مجموعی فہم و فراست کی نمائندگی کرتی ہے۔

قرارداد پر آئندہ ہفتے رائے شماری کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیوں کہ وزیر اعظم گیلانی کے بقول ایوان میں اکثریت کے باوجود حکومت حزب اختلاف کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔

جس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اسلام آباد ہی میں مختلف اپوزیشن قائدین بشمول قاضی حسین احمد کے ساتھ ملک کی سیاسی صورت حال پر غور کرنے میں مصروف تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما احسن اقبال نے ذرائع ابلاغ کو ان ملاقاتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تمام قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں کوئی غیر جمہوری اقدام یا مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

لیکن اُنھوں نے پاکستان میں موجودہ مسائل اور سیاسی بے چینی کا ذمہ دار حکومت کو ٹہھرایا۔

’’ملک کو جو اس وقت درپیش مسائل ہیں چاہے وہ معاشی ہیں، چاہے وہ اداروں کے ہیں، چاہے وہ سیاسی ہیں، ان سب مسائل کا حل فوری انتخابات کا انعقاد ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG