رسائی کے لنکس

اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے ایک اہم پیش رفت ہیں: بھارتی ہائی کمشنر


بھارتی ہائی کمشنر ’ٹی سے اے راگھوان‘ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ باضابطہ طور پر اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے آغاز کے بعد مختلف معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان بڑی تیزی سے پیش رفت ہو گی۔

بھارت کے ہائی کمشنر ’ٹی سے اے راگھوان‘ نے کہا ہے کہ جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق اسلام آباد اور دہلی کے تعلقات میں اہم پیش رفت ہے۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر ’ٹی سے اے راگھوان‘ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ باضابطہ طور پر اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے آغاز کے بعد مختلف معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان بڑی تیزی سے پیش رفت ہو گی۔

’’سب سے بڑی پیش رفت اس وقت ہو گی جب (دونوں ملکوں کے) سیکرٹری خارجہ کی ملاقات ہو گی اور وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ جامع مذاکرات کی ملاقاتیں کس طرح ہوں گی اور جب یہ ملاقاتیں ہوں گی تو مجھے پوری امید ہے کہ ایک نئی کڑی شروع ہو گی اور آپ الگ الگ معاملات پر بڑی تیزی سے پیش رفت دیکھیں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی طرف سے جامع مذاکرات کے دوران مختلف اُمور پر بات چیت کی جائے گی۔

"میری رائے میں یہ اہم پیش رفت تھی، کیونکہ مشترکہ بیان میں ایک لائحہ عمل بنایا گیا ہے کہ کس کس معاملے پر بات ہو گی اور کس طرح ہو گی اس میں کئی معاملات مشترکہ بیان میں لکھے گئے ہیں جو آپ نے دیکھے ہوں گے اس میں دہشت گردی کی معاملے پر بات ہو گی اور قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات ہو گی اور اس پوری کڑی کو آگے بڑھانے کے لیے (دونوں ملکوں) کے سیکرٹری خارجہ بھی ملاقات کریں گے۔‘‘

اس ماہ کے اوائل میں بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی۔ اس موقع پر انھوں نے پاکستان کے اُمور خارجہ کی مشیر سرتاج عزیز اوروزیراعظم نواز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

پاکستان وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز سے سشما سوراج کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان اور بھارت نے جامع مذاکرات کے عمل کو بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں کشمیر اور دہشت گردی کے معاملات سمیت دیگر امور شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں پیرس میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیانمختصرغیر رسمی ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد دونوں ملکوں کے سلامتی کے مشیروں کے درمیان بنکاک میں ملاقات ہوئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کو نا صرف امریکہ اور چین بلکہ اقوام متحد ہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG