رسائی کے لنکس

طالبان ترجمان کی مخبری پر 20 کروڑ روپے انعام


وفاقی وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ احسان اللہ احسان غیر ملکی عناصر کے لیے کام کر رہا ہے اور وہ جلد اس کے بارے میں تفصیلات قوم کے سامنے لائیں گے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمن ملک نے کالعدم تنظیم 'تحریکِ طالبان پاکستان' (ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان کے بارے میں معلومات دینے والے کو 20 کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ احسان اللہ احسان غیر ملکی عناصر کے لیے کام کر رہا ہے اور وہ جلد اس کے بارے میں تفصیلات قوم کے سامنے لائیں گے۔

صحافیوں سے گفتگو میں رحمن ملک نے دعویٰ کیا کہ تحریکِ طالبان پاکستان تقسیم ہوچکی ہے اور اب اس میں کئی دھڑے بن گئے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کالعدم تنظیم کے ترجمان ملک میں ایسی کون سی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے خود کش حملوں اور معصوم شہریوں کے قتل کو جائز قرار دے دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ احسان اللہ احسان 'ٹی ٹی پی' کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی بڑی کاروائیوں اور حملوں کے بعد عموماً ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ٹیلی فون کرکے اپنی تنظیم کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے صحافیوں کو ان کی مسلسل ٹیلی فون کالوں کے باوجود آج تک ان کا سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

احسان اللہ احسان نے گزشتہ ماہ سوات میں طالبان کی ناقد 14 سالہ پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ نے ان کے سر کی قیمت 10 لاکھ ڈالر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قبل ازیں منگل کو احسان اللہ احسان نے معاصر نشریاتی ادارے 'بی بی سی اردو' کو ٹیلی فون کرکے نجی ٹی وی چینل سے منسلک معروف صحافی حامد میر پر بم حملے کی ناکام کوشش کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد میں رہائش پذیر حامد میر کی گاڑی کے نیچے نامعلوم افراد نے پیر کو اس وقت بارودی مواد نصب کردیا تھا جب وہ 'ایف سیون' کے علاقے میں گاڑی کھڑی کرکے کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔

بعد ازاں ان کے ڈرائیور کی نشاندہی پر بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بارودی مواد ناکارہ بنادیا تھا۔ 'بی بی سی' کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حامد میر پر حملہ اس لیے کیا گیا کیوں کہ وہ ایک 'سیکولر صحافی' ہیں جو طالبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG