رسائی کے لنکس

رضائیان کا کیس ایران کی کوریج کو متاثر کرے گا: واشنگٹن پوسٹ ایڈیٹر


امریکی صحافی جیسن رضائیان اپنی اہلیہ یگانہ صالحی کے ساتھ۔

امریکی صحافی جیسن رضائیان اپنی اہلیہ یگانہ صالحی کے ساتھ۔

رضائیان کو ایران میں ایسی قید میں رکھا گیا جس کی نگرنی پاسداران انقلاب کر رہی تھی اور ایڈیٹر مارٹی بیرن کے بقول یہ واضح نہیں کہ ایران کے صدر یا وزیر خارجہ اگر چاہتے تو وہ رضائیان کو رہا کر سکتے تھے یا نہیں۔

اس ہفتے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں امریکی روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ایڈیٹر مارٹی بیرن نے کہا کہ ایران میں اخبار کے رپورٹر جیسن رضائیان کی حراست سے اس بات پر اثر پڑے کا کہ اخبار ایران کی کیسے کوریج کرتا ہے۔

رضائیان کو 545 دنوں تک جاسوسی کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔ ان الزامات کی اخبار اور امریکی حکومت نے سختی سے تردید کی ہے۔ انہیں 16 جنوری کو ایران سے قیدیوں کے تبادلے میں رہا کر دیا گیا تھا۔ اسی دن امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے تہران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کیا تھا۔

مارٹی بیرن اور وی او اے کی فارسی سروس کی سربراہ ستارہ درخشیش دونوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ ایران کی حکومت کے اندر مختلف دھڑوں میں سیاسی کشمکش جاری ہے۔

بیرن نے کہا کہ رضائیان کے کیس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اندر مخالف دھڑے موجود ہیں۔ رضائیان کو ایران میں ایسی قید میں رکھا گیا جس کی نگرانی پاسداران انقلاب کر رہی تھی اور بیرن کے بقول یہ واضح نہیں کہ ایران کے صدر یا وزیر خارجہ اگر چاہتے تو وہ رضائیان کو رہا کر سکتے تھے یا نہیں۔

ایڈیٹر نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ اس خبر کو کور کرنا چاہے گا مگر وہ تہران کی جانب سے مداخلت نہ کرنے کے وعدے کے بغیر ایران میں نیا رپورٹر تعینات نہیں کرے گا۔

’’اس وقت ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ ہم ایک اور نامہ نگار کو وہاں تعینات کریں۔ ہماری ایرانی حکومت سے ایک نیا نامہ نگار بھیجنے کے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور ہمیں حکومت کی طرف سے یقین دہانی کو ضرورت ہے کہ وہاں نامہ نگار کو گرفتار نہیں کیا جائے گا جس طرح جیسن کو کیا گیا تھا۔‘‘

بیرن نے کہا کہ رضائیان کو جرمنی میں خوش آمدید کہنا جہاں رہائی کے بعد اسے لے جایا گیا ’’غیر معمولی طور پر جذباتی لمحہ‘‘ تھا۔

انہوں نے کہا کہ رضائیان جسمانی طور پر اچھی حالت میں تھا مگر 18 ماہ قید سے اس پر جذباتی اثر ہوا تھا۔

اخبار رضائیان کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دے رہا ہے۔ بیرن نے کہا کہ رضائیان اور ان کی اہلیہ یگانہ صالحی کی شادی کو ایک سال ہی ہوا تھا جب ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یگانہ کو گرفتاری کے دو ماہ بعد رہا کر دیا گیا۔

بیرن نے یہ کہنے سے انکار کر دیا کہ رضائیان کی قید اور جیل میں ان سے سلوک جس میں 49 دن کی قید تنہائی بھی شامل تھی اذیت کے زمرے میں آتا ہے۔

’’میں اسے ناانصافی سمجھتا ہوں۔ کسی کی آزادی نہیں چھینی جانی چاہیئے۔ حد یہ نہیں کہ کسی کو اذیت دی گئی یا نہیں۔ حد یہ ہے کہ کسی کی آزادی ان سے چھینی گئی یا نہیں اور جیسن کے ساتھ ایسا ہی تھا۔‘‘

XS
SM
MD
LG