رسائی کے لنکس

افریقی امریکی موسیقی کی ایک مقبول صنف، آراینڈ بی

  • کرس سمکنز

افریقی امریکی موسیقی کی ایک مقبول صنف، آراینڈ بی

افریقی امریکی موسیقی کی ایک مقبول صنف، آراینڈ بی

ردھم اینڈ بلوز، موجودہ امریکی ثقافت کے لیے خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1960 ءکے عشرے میں فنک برادرز نامی ایک میوزک گروپ نے یہاں واشنگٹن کے سمتھ سونین میوزیم میں ایک فولک فیسٹیول میں آر اینڈ بی موسیقی پیش کی تھی۔ ردھم اینڈ بلیوز نام کی یہ موسیقی تقریبا 70 سال پہلے سیاہ فام امریکیوں نے شروع کی تھی۔ یہ افریقی ثقافت کے گاسپل ، یا گرجا گھر کی موسیقی اور الیکٹرک بلیوز کی ایک شکل بھی تھی، جسے ایک مشہور موسیقار بی بی کنگ نے عام کیا تھا۔

لونی بنچ واشنگٹن میں واقع افریقی امریکی تاریخ کے میوزئم کے ڈائریکٹر ہیں۔ان کا کہناہے کہ یہ موسیقی ہمیں امریکہ کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ یہ دکھ اور درد بیان کرتی ہے۔بلکہ بعض موقعوں پر اس میں عالمگیریت محسوس ہوتی ہے ۔ آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں، لوگوں کو اس کی دھنوں سے محظوظ ہوتے دیکھیں گے۔

جیری ولیمز آر اینڈ بی گانے والے ایک منجھے ہوئے گلوکار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1950ء اور 60 کے عشروں میں جیمز براؤن نے لوگوں کو اپنی اسی موسیقی سے محظوظ کیے رکھا، جس میں انھوں نے آر اینڈ بی کو ایک نیا انداز بھی پیش کیااوراسے روک اینڈ رول کا نام دیا گیا۔

اور پھر اس موسیقی میں خواتین فنکاروں نے بھی دلچسپی لینی شروع کی ، جن میں ڈائنا روس کو بہت شہرت ملی ۔

میبل جون اس موسیقی کی پہلی خاتون فنکارہ ہیں جنھوں نے امریکہ کی ایک بڑی ریکارڈنگ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ میبل کا کہنا ہے کہ آر اینڈ بی ایک ایسی موسیقی ہے جسے ہر خاص وعام سمجھ سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ردھم اینڈ بلیوز وہ دھن ہے جو دل سے نکلتی ہے۔ اگر آپ دکھی ہیں تو یہ وہ دکھ بیان کرتی ہے۔اگر آپ خوش ہیں تو یہ وہ بیان کرتی ہے۔ اگر آپ کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں تو وہ بھی اس کے ذریعے آپ دے سکتے ہیں۔

آج بھی آر اینڈ بی موسیقی اپنی ارتقائی منازل طے کر رہی ہے۔ لیکن اس کی جڑیں اب بھی افریقن امریکن ثقافت میں مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم اب اس میں ایسی ولولہ انگیز اور ترغیبی دھنیں اور شاعری رواج پا رہی ہے جس سے لوگوں کے ساتھ اس موسیقی سے تعلق مضبوط ہو رہا ہے ۔

XS
SM
MD
LG