رسائی کے لنکس

’ڈرون حملے دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں‘

  • حسن سید

’ڈرون حملے دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں‘

’ڈرون حملے دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں‘

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں لیکن اگر پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اُس سے دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بدھ کے روز پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہول بروک کے ساتھ اسلام آباد میں مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے اِس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ امریکہ نے پاکستان کے اُن خدشات پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جو اُسے بھارت کی طرف سے اپنی سلامتی کے حوالے سے لاحق ہیں۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے امریکی نمائندے کو اِس تشویش سے بھی آگاہ کیا ہے کہ اُس کے ہوائی اڈوں پر پاکستانی شہریوں کی خصوصی جامہ تلاشی جیسے اقدامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اِس وقت بہتری کی جس نہج پر ہیں اتنے گذشتہ ایک سال کے دوران کبھی نہیں تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکی ہوائی اڈوں پر جامہ تلاشی کے دوران پاکستانیوں کو پیش آنے والی مشکلات پر اُنھیں افسوس ہے۔ تاہم خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ یہ اقدام صرف پاکستانی شہریوں کے حوالے سے کسی امتیاز کو مدِ نظر رکھ کر نہیں اُٹھایا گیا، بلکہ گذشتہ مہینے ایک امریکی طیارے میں دہشت گردی کی ناکام کوشش کے بعد سکیورٹی کے انتظامات کو بڑھانے کی غرض سے اُٹھایا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ پاکستان کے ساتھ مضبوط اور طویل المیعاد تعلقات کی خواہاں ہے اور اُسےپاکستان کی طرف سے مختلف معلومات پر ظاہر کی جانے والی تشویش کا بھی احساس ہے اور اُسے دور کرنے کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن بہت جلد پاکستان کا دورہ کریں گی۔

ایک سوال کے جواب میں رچرڈ ہول بروک کا کہنا تھا کہ امریکہ کے افغانستان میں طالبان کے ساتھ براہِ راست کوئی روابط نہیں ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ جنگ جو جو تشدد اور القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر اور ہتھیار ڈال کر مستقبل میں پُرامن طور پر کردار ادا کرنا چاہیں اُن کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG