رسائی کے لنکس

امریکیوں کی اکثریت ہتھیار رکھنے کی حامی ہے

  • واشنگٹن

ہتھیار رکھنے کی اجازت تقریباً ڈھائی سو سال سے امریکیوں کا حق ہے

ہتھیار رکھنے کی اجازت تقریباً ڈھائی سو سال سے امریکیوں کا حق ہے

ہتھیار رکھنے کی اجازت تقریباً ڈھائی سو سال سے امریکیوں کا حق ہے۔ اور یہ حق انہیں امریکی دستور کی دوسری ترمیم کے ذریعے حاصل ہوا تھا

امریکی ریاست کولوارڈو میں حال ہی میں شوٹنگ جیسے ہر واقعے کے بعد بندوق رکھنے کے حق کی بحث ایک بار پھر سے زندہ ہوگئی ہے ۔ اگرچہ آتشیں اسلحے سے انسانی ہلاکتوں کے پیش آنے والے متعدد واقعات کے باوجود آج امریکیوں کی ایک زیادہ بڑی تعداد شہریوں کے ہتھیار رکھنے کے حق کی حامی ہے ۔

ہتھیار رکھنے کی اجازت تقریباً ڈھائی سو سال سے امریکیوں کا حق ہے ۔ اور یہ حق انہیں امریکی دستور کی دوسری ترمیم کےذریعے حاصل ہواتھا۔ اس ترمیم میں کہاگیا ہے کہ عوام کے بندوق رکھنے کے حق کو محفوظ رکھاجائے گا۔

حال ہی میں ریاست کولوراڈو میں ایک شخص کے ہاتھوں سینما ہال میں ایک درجن افراد کے قتل کے واقعہ کے بعد بندوق رکھنے کے حق کی بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے ۔

تمام امریکی ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ آتشیں اسلحے پر سخت یا نرم جیسے چاہیں قوانین بنا سکتے ہیں۔ لیکن سب سے اہم مسئلہ ہتھیاروں کو ذہنی مریضوں اور جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ لگنے سے بچانے کا ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ آتشیں ہتھیار فروخت کیے جانے سے پہلے خریدار کا ماضی جانچا جانا انتہائی ضروری ہے۔ لیکن اس قانون کے مخالفین ہتھیاروں کے استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے سخت قوانین کے حامی ہیں۔

ہتھیاروں سے بچاؤ کی ایک تنظیم بریڈی سینیٹر کے ڈینس ہینی گن کہتے ہیں کہ ہر سال 30 ہزار سے زیادہ شہری ہتھیار رکھنے کی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے نتیجے میں اپنی جانیں کھو بیٹھتے ہیں اور 70 ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوجاتے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والا یہ جانی نقصان کسی بھی دوسرے ترقی یافتہ اور صنعتی ملک سے کہیں زیادہ ہے۔

لیکن ہتھیار رکھنے کے حامی کہتے ہیں کہ اسلحہ لوگوں کی جانیں بچاتا ہے ۔

ہتھیار رکھنے کی آزادی کا حق ہمیشہ امریکہ کی تاریخ کا حصہ رہا ہے ۔ تشدد کے دکھ بھرے واقعات کے باوجود پچھلے سال کے ایک گیلپ سروے سے پتا چلاتھا کہ ہر چار میں سے صرف ایک امریکی ہینڈ گنز پر پابندی کے حق میں ہے ۔
XS
SM
MD
LG