رسائی کے لنکس

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اپنی رپورٹ اس نے مشرقی یوکرین میں دس دن کی تحقیقات کے بعد مرتب کی جس میں اسے کم از کم سات دیہاتوں میں، قصبوں اور شہروں میں کلسٹر بم کے استعمال کے شواہد ملے۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی ایک موقر گروپ نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں جنوری اور فروری کے دوران حکومت اور باغیوں کی طرف سے کلسٹر بم کا استعمال کیا گیا جس سے دو بچوں سمیت 13 عام شہری ہلاک ہوئے۔

ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو متنبہ کیا کہ فریقین میں سے کسی کو بھی ایسے ہتھیار استعمال نہیں کرنے چاہیں اور اس کا استعمال جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتا ہے۔

گروپ کے ایک ترجمان اولے سولوانگ کا کہنا تھا کہ نہ صرف یہ کہ ایسے بم جب پھٹتے ہیں تو یہ وسیع علاقے میں شہریوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں بلکہ ان میں نہ پھٹنے والے بم اور ان کی باقیات بھی حملے کے بہت عرصے بعد تک شہریوں کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔

"کلسٹر ہتھیار کا استعمال شہریوں کے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔"

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اپنی رپورٹ اس نے مشرقی یوکرین میں دس دن کی تحقیقات کے بعد مرتب کی جس میں اسے کم از کم سات دیہاتوں میں، قصبوں اور شہروں میں کلسٹر بم کے استعمال کے شواہد ملے۔

تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے دونوں فریقوں کی طرف سے لڑائی کے دوران کلسٹر بموں کے استعمال کی دستاویزات مرتب کی ہیں۔ ان میں سے تین حکومتی عملدراری والے علاقے تھے جب کہ چار ایسے ہیں جہاں باغیوں کا تسلط ہے۔

XS
SM
MD
LG