رسائی کے لنکس

حکومتی اقدام انسانی حقوق کو دبانے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتے: ایمنسٹی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رپورٹ میں کہا گیا کہ پشاور اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کے تناظر میں کیے گئے حکومتی اقدام یہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام رہے

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" نے پاکستان میں مسلح گروہوں کی طرف سے عام شہریوں کو لاحق خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت کا رد عمل کسی صورت بھی انسانی حقوق کو دبانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

تنظیم نے بدھ کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں دنیا بھر میں انسانی حقوق اور آزادی کو لاحق خطرات پر دنیا بھر کے

ملکوں کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ پشاور اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کے تناظر میں کیے گئے حکومتی اقدام یہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام رہے جس میں سزائے موت پر عائد پابندی کا ہٹایا جانا بھی شامل ہے۔

16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو سے زائد بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد حکومت پہلے دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرموں کو پھانسی دینے کا اعلان کیا جب کہ بعد ازاں اس کا اطلاق ہر جرم میں موت کی سزا کے مرتکب مجرموں پر ہونے لگا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک سال میں تین سو سے زائد افراد کو تختہ دار پر لٹکائے جانے سے پاکستان دنیا میں سزائے موت پر عملدرآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا اور تنظیم کے بقول ریاستی اجازت سے کی جانے والی ان ہلاکتوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں سے متعلق پاکستان کی پالیسی نے حکومتی عہدیداروں کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ ان کی نگرانی کریں اور ان میں سے کسی کے کام کو "ملک کے مفاد کے خلاف" گردانتے ہوئے بند کر دیں۔

تنظیم کی جنوب ایشیا کے لیے ڈائریکٹر چمپا پٹیل کہتی ہیں کہ پاکستان کو ملک میں انسانی حقوق کے محافظوں اور کارکنوں کے کردار کا اعتراف کرنا چاہیے نا کہ ان کا "گلا گھونٹا" جائے۔

"یہ بہت شرمناک ہے کہ پاکستان دنیا کے ان 14 ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے انسانی حقوق کے محافظوں کے تحفظ کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔"

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو اس وقت غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور اسی لیے بعض غیر معمولی اقدامات کرنے پڑے۔ اُنھوں نے کہا کہا جن مجرموں کو تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ہی موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔

"یہ سزائیں کئی ملکوں کی طرح منٹوں میں یا گھنٹوں میں نہیں دی جاتی بلکہ سالوں میں (دی جاتی ہیں) …سیشن کورٹ ہے ، ہائی کورٹ ہے، سپریم کورٹ ہے پھر اس کے بعد صدر مملکت سے (رحم کی)اپیل ہے۔ یہ تمام چیزیں موجود ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ انصاف کا کوئی ایساپیمانہ نہیں رہ جاتا جسے پورا نہیں کیا جاتا ہے"۔

حکومت نے ملک میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک قومی لائحہ عمل ترتیب دے رکھا ہے جس کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائیاں کرتے آرہے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش مخصوص حالات میں ملکی قوانین کے مطابق سزاؤں پر عملدرآمد اور "سخت اقدام" ناگزیر ہیں۔

XS
SM
MD
LG