رسائی کے لنکس

ملّا عمر، پریس کی آزادی کا دشمن شکاری: حققوق تنظیم


ملّا عمر، پریس کی آزادی کا دشمن شکاری: حققوق تنظیم

ملّا عمر، پریس کی آزادی کا دشمن شکاری: حققوق تنظیم

ذرائع ابلاغ کے حقوق کی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے افغان طالبان کے لیڈر ملّا عمر کو بھی آزادیِ صحافت کے دشمنوں کی اُس صف میں شامل کرلیا ہے جسے تنظیم نے پریس کی آزادی کے 40 ”دشمن شکاریوں“ کی فہرست کا نام دیا ہے۔

تنظیم نے پیر کے روز اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملّا عمر کو فہرست میں شامل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ” وہ جو مقدّس جنگ لڑ رہا ہے“ اُس کا ہدف پریس بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ذرائع ابلاغ پر کنٹرول کے لیے طالبان کے سربراہ کی جنگ میں 2009 کے دوران صحافیوں اور اخباری اداروں کے خلاف لگ بھگ 40 حملے کیے گئے تھے۔

ذرائع ابلاغ کے حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان، تاوان وصول کرنے کے لیے اکثر صحافیوں کو اِغوا کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں وسط ایشیا کے بارے میں کہا گیا ہےکہ تُرکمانستان، اُزبکستان اور قزاقستان کے صدور پریس کی آزادی کے دُشمن شکاری ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں لیڈروں نے ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں کو زیادہ سخت کردیا ہے اور انہوں نے نامہ نگاروں کو اُن کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنا پر جیل میں ڈالا ہے۔

تنظیم نے سری لنکاکے سیکریٹری دفاع گوتا بھایا راجاپاکسے کو ” ذرائع اِبلاغ کے خلاف اُن کی کھلم کھلا عداوت“ کی بنا پر آزادیِ صحافت کا دشمن قرار دیا ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ تامل ٹائیگر باغیوں کے خلاف جنگ اگرچہ 2009 میں ختم ہوگئى تھی، لیکن سری لنکا اور دوسرے ملکوں کے صحافیوں کے خلاف راجا پاکسے کے حملے جاری رہے۔

XS
SM
MD
LG