رسائی کے لنکس

کمیشن کی رکن فضیلہ عالیانی نے کہا کہ خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کے حقوق کی بھی پاسداری کی جانی چاہیے۔

حکومت ملک میں شہری و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک کے لیے قانون سازی اور قوانین کے نفاذ کے لیے اقدام کا بتاتی آرہی ہے لیکن اب بھی صورتحال ایسی نہیں کہ جسے تسلی بخش کہا جا سکے۔

پاکستان میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے سرکاری کمیشن کا بھی کہنا ہے ملک میں خاص طور پر بچوں اور خواجہ سرا برادری کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

خواجہ سراؤں سے امتیازی سلوک کوئی غیر معمولی بات تصور نہیں کی جاتی تھی لیکن رواں سال ان پر تشدد کے بعض واقعات اس مسئلے پر سماجی حلقوں کی سنجیدہ توجہ حاصل کرنے کا سبب بنے اور ان کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ شدت سے آواز بلند کی جانے لگی ہے۔

کمیشن کی رکن فضیلہ عالیانی نے کہا کہ خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کے حقوق کی بھی پاسداری کی جانی چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن انھیں یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کمیشن انھیں معاشرے میں باعزت مقام دلانے کے لیے بھی اپنی سفارشات مرتب کر رہا ہے۔

"چیئرمین صاحب نے سب ارکان کی رائے لی ہے اور کہا ہے کہ لکھ کر دیں کہ خواجہ سراؤں کی حالت کو کیسے صحیح کیا جائے، ان کے ساتھ سلوک بھی ٹھیک ہو، انھیں روزگار مہیا کیا جائے ان کو معاشرے کا ایک باعزت فرد بنایا جائے اور ان کے خلاف کوئی تشدد نہیں ہونا چاہیے اور اگر ایسا ہو تو پولیس اس پر کارروائی کرے۔"

2012ء میں ملک کی عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک فیصلے میں خواجہ سراؤں کا قومی شناختی کارڈ میں تیسری جنس کے طور پر اندراج کرنے اور انھیں ملازمتوں میں دو فیصد کوٹہ دینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد چند سرکاری محکموں میں بعض خواجہ سراؤں کو ملازمتیں بھی ملیں۔

لیکن اس برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود انھیں اپنے حقوق پوری طرح سے نہیں مل رہے جس میں خاص طور پر معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس کی رکن فضیلہ عالیانی کہتی ہیں کہ ارکان کی طرف سے تیار کردہ سفارشات حکومت کو ارسال کی جائیں گی تاکہ ان پر مناسب قانون سازی میں مدد مل سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ملک میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان کے جنسی استحصال سے متعلق بھی کمیشن نے سفارشات مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ارسال کی تھیں جن پر عملدرآمد سے متعلق جواب کا انتظار ہے۔

XS
SM
MD
LG