رسائی کے لنکس

سعودی نژاد امریکی شہری سارہ عطار کو دوسری مرتبہ کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ وہ ریو اولمپکس میں میراتھن دوڑوں کے مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں

اولمپک کی تاریخ میں دوسری مرتبہ سعودی عرب نےخواتین کھلاڑیوں کے دستے کو اولمپک کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کے لیے ریو ڈی جنیرو بھیجا ہے۔

چار برس پہلے سعودی عرب نے پہلی مرتبہ دو سعودی خواتین کھلاڑیوں کو لندن اولمپک 2012 میں شرکت کرنے کی اجازت دی تھی، جبکہ اس برس اولمپک کھیلوں کے مقابلے میں خواتین کی شرکت کو دوگنا کیا گیا ہے اور چار خواتین کھلاڑیوں کو ریو ڈی جنیرو اولمپکس میں مقابلے کی اجازت دی گئی ہے۔

عالمی سطح پر کھیلوں کے مقبول ترین مقابلے اولمپکس کا آغاز پانچ اگست سے برزایل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہو رہا ہے، جس میں 200 سے زائد اقوام شرکت کر ہی ہیں۔

اب جبکہ کئی دہائیوں سے زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کی خواتین کو بھی کھیلوں کے اس مقبول مقابلے میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے اور سعودی عرب بھی اب اسی روایت کی پیروی کر رہا ہے۔

اولمپک مقابلے میں شرکت کرنے والی پہلی سعودی خاتون کھلاڑی سارہ عطار تھیں، جنھوں نے 2012 کے لندن اولمپک میں 800 میٹر دوڑ کے مقابلے میں شرکت کی تھی۔

سعودی نژاد امریکی شہری سارہ عطار کو دوسری مرتبہ کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کرنے کا موقع مل رہا ہے وہ ریو اولمپکس میں میراتھن دوڑوں کے مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔

سعودی عرب سے ریو اولمپکس میں شرکت کرنے والی چار خواتین کھلاڑیوں میں سارہ عطار، لبنیٰ العمیر، کریمان ابو الجادیل اور وجود فاہمی کے نام شامل ہیں۔

کریمان ابو الجادیل 100 میٹر کی دوڑ میں حصہ لے رہی ہیں۔

لبنیٰ العمیر شمشیر زنی مقابلے میں سعودی عرب کی نمائندگی کریں گی، جبکہ وجود فاہمی 52 کلو گرام جوڈو کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔

دوڑوں کے مقابلے میں حصہ لینے والی خواتین کھلاڑیوں میں سارہ عطار اور کریمان ابو الجادیل کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تربیت کا موقع ملا ہے جہاں وہ زیر تعلیم ہیں؛ جبکہ شمشیر زنی کے مقابلے میں شرکت کرنے والی کھلاڑی لبنیٰ العمیر سعودی عرب کے شہر الخبر سے ریو روانہ ہوئی ہیں۔

مجموعی طور پر 11 سعودی کھلاڑی ریو اولمپک مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں ان میں سے پانچ کھلاڑیوں کو اولمپک کمیٹی کی جانب سے وائلڈ کارڈ اجازت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چاروں خواتین کھلاڑی وائلڈ کارڈ انٹری کے ذریعے ریو اولمپکس میں شرکت کر رہی ہیں۔

سعودی اولمپک کمیٹی کی چیف ایگزیکٹیو حسام قریشی نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ دو خواتین کھلاڑی فیلڈ اینڈ ٹریک یعنی دوڑوں کے مقابلے میں، ایک جوڈو اور ایک خاتون کھلاڑی شمشیر زنی کے مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خواتین کھلاڑی ریاست کے سماجی رہنما خطوط کے مطابق ریو کھیلوں میں حصہ لیں گی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لباس اور کھیلوں میں شرکت کے حوالے سے مسلم ممالک کی روایتی اور مذہبی ضروریات کا پورا خیال رکھیں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اولمپکس کھیلوں میں حصہ لینے کا مقصد یہ ہے کہ کھلاڑی بین الاقومی کھیلوں کےمقابلےکے لیے تجربہ حاصل کرسکیں۔

سعودی عرب میں خواتین لباس کے معاملے میں سخت قوانین کی پابند ہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری اسکولوں میں جسمانی سرگرمیاں لڑکیوں کے نصاب کا حصہ نہیں ہیں۔ تاہم، ملک میں صرف خواتین کے جم اور کھیلوں کے کلب کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔

علاوہ ازیں، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں صرف لڑکیوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی پرنسسز نورا یونیورسٹی میں خواتین کے لیے اسپورٹس کمپلیکس قائم کیا گیا ہے جہاں ان کے لیے سوئمنگ ،جم ان ڈور دوڑ کے میدان اور فٹ بال کے میدان اور دیگر کھیلوں کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG