رسائی کے لنکس

شام میں ہونے والے قتل اور تباہی کا ذمہ دار صرف دولت اسلامیہ کا گروہ ہی نہیں بلکہ حکومت مخالف گروہ بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں لڑائی میں مصروف تمام فریقوں کی طرف سے بہیمانہ جرائم کے ارتکاب کے شواہد موجود ہیں۔

اقوم متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی طرف سے شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں، دوسرے مسلح گروہوں اور سرکاری فورسز کی طرف سے لوگوں کے خلاف بڑ پے یپمانے پر ہونے والے مظالم کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

کمیشن کے سربراہ پائلو پنہیرونےرپورٹ پیش کرتے ہوئے شام میں جنگ کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور بڑے پیمانے پر ہونے والے مظالم پر اپنی مایوسی کو نہ چھپا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خاص طور پر تمام متحارب گروہوں کی طرف سے عام شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر پریشان ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اب تک جنگ کی وجہ سے تقریباً 200,000 افراد ہلاک اور اندازاً نو لاکھ پچاس ہزار کو زبردستی نقل مکانی کرنی پڑی۔ پنہیرو نے کہا کہ اکثر یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ ان عددی حقائق کے پیچھے "ایک شخص ہے جو ان جرائم کا نشانہ بنا جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔"

انہوں نے کہا کہ مظالم کا نشانہ بننے والوں میں "وہ بچہ بھی شامل ہے جو حلب شہر کے ایک اسکول میں میزائل حملے میں زخمی ہوا، ایک شخص جس کو دمشق کے حراستی مرکز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے جسے اپنے والدین اور شوہر کو کھو دینے کے بعد بے یارومددگار چھوڑدیا گیا۔"

انہوں نے کہا کہ اپنے مصائب کے باوجود یہ متاثرین پرامید ہیں کہ ان کی کہانیاں جنگ بند ہونے کا سبب بن جائیں گی۔

پنہیرونے اسلامک اسٹیٹ کے مظالم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں اس حوالے سے عام شہریوں کے قتل عام، حراست میں لیے گیے سرکاری فوجیوں کو ہلاک کرنے اور دوصحافیوں اور ایک امدادی کارکن کے سرقلم کرنے کے واقعات کا بھی تذکرہ کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے جنگجوؤ ں کا خواتین کے خلاف روا رکھے جانے والے ظلم و تشدد اور بچوں کو دانستہ طور پر تشدد کی طرف لے جانے کا بھی ذکر کیا ۔

انہوں نے کہا کہ شام میں ہونے والے قتل اور تباہی کا ذمہ دار صرف دولت اسلامیہ کا گروہ ہی نہیں بلکہ حکومت مخالف گروہ بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

انہوں نے بشارالاسد حکومت پر الزام عائد کیا کہ لوگوں کو زبردستی لاپتا کرنا، مردوں کو قتل کرنے، تشدد اور جنسی زیادتی کی کارروائیاں مبینہ طور پر اس کی مرضی سے کی گئی ہیں۔

شامی سفیر نے کمیشن کی رپورٹ کو حکومت مخالف اور سیاسی کہتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ہزاروں لوگوں کی سربمہر معلومات اور بیانات موجود ہیں جو مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے۔

XS
SM
MD
LG