رسائی کے لنکس

اسلامک فیشن ابھی بالکل نیا تصور ہے اور اس میں کوئی مارکیٹ لیڈر موجود نہیں ۔

فیشن کی دنیا میں ” اسلامک فیشن انڈسٹری “کا رجحان بڑی تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اس انڈسٹری کا سب سے اہم جز ’عبایا‘ ہے جو مسلمان خواتین ملبوسات کے اوپر پہنتی ہیں۔ عبایا کی مختلف کلرز، ڈیزائنز اور ورائٹی کی موجودگی کے سبب اس کی خرید وفروخت خاص کر دبئی اور دیگر خلیجی ممالک میں ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر تی جا رہی ہے۔
دبئی میگزین ”عربین بزنس “ کے مطابق دبئی میں جس کمپنی کے سب سے زیادہ عبایا مشہور ہیں وہ ہے ’عبایا ایڈیکٹ‘۔ خلاف توقع اسے میڈیکل کے پیشے سے وابستہ ڈاکٹر ڈی اننا خلیل نے اپنے شوہر احمد ایوب کے ساتھ ملکرقائم کیا تھا ۔ قسمت نے ان کا بھر پور ساتھ دیا اور عبایا ایڈکٹ دیکھتے ہی دیکھتے پوری ریاست میں مقبول ہوگئی۔
ڈی اننا نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ” اسلامک فیشن ابھی بالکل نیا تصور ہے اور اس میں کوئی مارکیٹ لیڈر موجود نہیں ۔کچھ ڈیزائنرز عبایا ڈیزائن کررہے ہیں لیکن وہ ایک عام مسلمان عورت کے روزمرہ پہننے کے لئے لمبی اور ڈھیلی ڈھالی آستیوں والے لباس کے لئے کوئی نئی چیز مارکیٹ میں نہیں لا رہے۔ ان لوگوں کے لئے ،جو بہت زیاد جدید انداز کے فیشن کے بجائے معتدل فیشن پر یقین رکھتے ہیں، ہم ان کے لئے کام کر رہے ہیں ۔“
کچھ ایسے ہی خیالات کا اطہار کیا ان کے شوہر احمد نے جن کا کہنا تھا کہ” ابھی لوگوں کو سمجھ ہی نہیں کہ یہ کتنی بڑی مارکیٹ ہے۔ ہمار ا گول ہے کہ ہم درمیانی نوعیت کے فیشن میں اپنے برانڈ کو سب سے اوپر لے کر جائیں گے۔“
رواں سال نومبر میں’عبایا ایڈیکٹ‘ ملائیشیا میں ہونے والے مرسیڈیز بینز فیشن ویک میں حصہ لے گی جبکہ لاس اینجلس ، نیویارک ،میامی ،شکاگواور ٹیکساس میں ہونے والے فیشن شوز میں بھی کمپنی کی شرکت یقینی ہے۔“
دی آنا خلیل اور ان کے شوہر کے مطابق مڈل ایسٹ اور دبئی ایسی مارکیٹ ہے جس میں اسلامک فیشن کے حوالے سے بہت گنجائش موجود ہے۔مغربی اور پین ایشین ملکوں میں پہلے ہی یہ فیشن اپنی جگہ بنا چکا ہے۔
احمد ایوب کا کہنا ہے ’بلومبرگ ‘کے تازہ سروے نے اسلامک فیشن انڈسٹری کے بارے میں جاننے کے لئے جو سرو ے کیا اس میں چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ اسلامک فیشن کی مارکیٹ کا حجم96بلین ڈالرز ہے۔‘
عبایا ایڈیکٹ کی جانب سے کرائے جانے والے آن لائن سروے کے مطابق معتدل فیشن صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔سروے میں حصہ لینے والے دس فیصد عیسائی مذہب کے ماننے والے بھی تھے جنھیں چرچ جاتے وقت کسی مناسب لباس کی ضرورت ہوتی ہے۔
سات سو میں سے 70فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مارکیٹ میں کوئی ایسی چیز دستیاب نہیں جو مکمل طور پرکور بھی کرے اور اسٹائلش اور فیشن ایبل بھی ہو۔
ایوب کاکہنا ہے کہ اب بڑے بڑ ے فیشن ڈیزائنرز بھی مناسب فیشن کی طرف لوٹ رہے ہیں۔” ویلن ٹینو“نے بھی لمبی آستین والے ڈھیلے ڈھالے لباس بنانے شروع کر دئیے ہیں کیونکہ وہ جانتا ہے یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے خاص طور پر یورپ میں اس کی بڑی مانگ ہے ۔ یورپ میں 34ملین مسلمان بستے ہیں۔
صرف 10ملبوسات کے ساتھ ویب سائٹ سے اپنے کام کا آغاز کرنے والی ’عبایا ایڈیکٹ‘ کے اب ہر مہینے 500آٹئمز فروخت ہوتے ہیں اور فیس بک پر اسے فالوکرنے والوں کی تعداد 27,000ہے۔
XS
SM
MD
LG