رسائی کے لنکس

10 سال سے لاپتا امریکی شہری کی تلاش میں مدد کی اپیل


کرسٹین لیونسن (دائیں) رابرٹ لیونسن کی اہلیہ اور ڈینؑل لیونسن بیٹا

امریکی ’ایف بی آئی‘ کے سابق اہلکار رابرٹ لیونسن نو مارچ 2007 کو اس وقت لاپتہ ہو گئے تھے جب وہ نجی تفتیش کار کے طور پر ایران کے کش جزیرہ کا دورہ کر رہے تھے۔

ایران میں 10 سال قبل لاپتہ ہونے والے امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی ' کے ایک سابق اہلکار کے بیٹے نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ان کی والد کو بازیاب کروانے کے لیے ایران پر "مسلسل دباؤ" رکھیں۔

ڈینئل لیونسن نے اپنے والد رابرٹ لیونسن کے لاپتہ ہونے کے دس سال مکمل ہونے پر جمعرات کو وی او اے کی فارسی سروس سے واشنگٹن میں گفتگو کی۔

ڈینئل لیونسن نے کہا کہ "ایران کی حکومت کو صرف یہ کہنا کہ وہ میرے والد کو ڈھونڈیں اب کافی نہیں ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ "ایرانی حکام سے غیر سرکاری رابطوں اور بات چیت کے ذریعے ان پر مسلسل دباؤ رکھے۔"

انہوں نے امریکہ کے موقر اخبار 'واشنگٹن پوسٹ ' میں ایک کالم بھی لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران کوئی اقدام اٹھانے میں ناکام رہتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر مزید تعزیرات عائد کرنی چاہیں اور ایران کی پاسدران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہیئے۔

رابرٹ لیونسن جو جمعہ کو 69 برس کے ہو جائیں گے، نو مارچ 2007 کو اس وقت لاپتہ ہو گئے تھے جب وہ نجی تفتیش کار کے طور پر ایران کے کش جزیرہ کا دورہ کر رہے تھے۔

وہ ’ایف بی آئی‘ سے 22 سال قبل ریٹائر ہو گئے تھے قبل ازیں وہ منشیات کی روک تھام سے متلعق امریکی ادارے ’یو ایس ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے)‘ سے بھی منسلک رہ چکے تھے۔

2010 ء میں اُن کے اہل خانہ کو ایک وڈیو ملی تھی جس میں وہ زرد رنگ کا لباس پہنے کمزور دکھائی دے رہے تھے اور وہ امریکہ حکام سے مدد کی اپیل کر رہے تھے۔ تاہم اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ لیونسن کو کس نے پکڑا ہوا ہے اور اس کے بعد سے اب تک ان کی کوئی تصاویر بھی جاری نہیں کی گئی ہے۔

ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکام نے انہیں حراست میں لیا تھا تاہم تہران تواتر کے ساتھ اس بات سے انکار کرتے ہوئے کہہ چکا ہے وہ نہیں جانتا کہ رابرٹ لیونسن کہاں ہیں۔

’وی او اے‘ کی فارسی سروس کے ساتھ انٹریو میں ڈینئل لیونسن نے کہا کہ ان کے خاندان کو ’ایف بی آئی‘ کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔

ڈینئل لیونسن اور ان کا خاندان امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر کورل اسپرنگ میں مقیم ہیں اور اُنھیں امید ہے کہ آنے والوں دنوں میں وہ صدر ٹرمپ اور انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔

گزشتہ سال اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ انتخاب جیت گئے تو لیونسن واپس آئیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی انتظامیہ "لیونسن کو ڈھونڈ نکالنے اور انہیں گھر واپس لانےکے اپنے عزم پر قائم ہے۔۔ اور ہم اس مقصد کے حصول کے لیے ہر کوشش کریں گے ۔"

سپائسر نے ایران پر بھی زور دیا کہ وہ لیونسن کا کھوج لگانے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے عز م کا پاس رکھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG