رسائی کے لنکس

انسانوں میں تو روبوٹ ہوتے ہی تھے لیکن اب روبوٹوں میں بھی انسان ہوا کریں گے۔ سائنس دانوں نے حال ہی میں ایک ایسا روبوٹ نمائش کے لیے پیش کیاہے۔ جو ایک جیتے جاگتے انسان کی طرح نہ صرف جذبات اور احساسات رکھتا ہے بلکہ ان کا اظہار بھی کرسکتا ہے۔

چند عشرے پہلے جب روبوٹ متعارف ہونا شروع ہوئے تھے ، تویہ نیا نام ان افراد کے لیے بھی استعمال ہونے لگاتھا جن کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ ان میں احساسات اور جذبات کی کمی ہے ۔

انسان کی طرح جذبات اور احساسات رکھنے والے اس نئے روبوٹ کا نام ہے “ناؤ” اور اس میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ مثلاً جب کوئی بات اسے اچھی نہیں لگتی تووہ اس کا اظہار مغربی انداز میں اپنے کندھے جھٹک کرکرتا ہے اور جب وہ خوش ہوتا ہے تو اپنا ہاتھ لہراتا ہے۔

روبوٹ ۔ ناؤ

روبوٹ ۔ ناؤ

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فی الحال اس روبوٹ میں جذبات اور محسوسات کی وہی سطح ہے جو عموماً ایک سال کی عمر کے بچے کی ہوتی ہے۔ یعنی جس طرح ایک سال کا بچہ پیار اور نفرت کو محسوس کرکے اپنے ردعمل کا اظہار کرسکتا ہے، روبوٹ ناؤ بھی ویسا ہی کرسکتا ہے۔

ناؤ اپنے سامنے موجود کسی بھی شخص کو دیکھ کر یہ اندازہ لگالیتا ہے کہ اس کا رویہ دوستانہ ہے یا نہیں۔ وہ محبت اور نفرت کے اظہار کے جسمانی انداز سمجھتا ہے۔ وہ چہرے کے تاثرات کی پہچان رکھتا ہے اورجس کسی شخص کے ساتھ وہ نسبتاً زیادہ وقت گذار لیتا ہے، تو پھر وہ اس کے موڈ اور مزاج کو بھی سمجھنے لگتا ہے ۔

یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈ شائر کی سائنس دان لولا کنامیرو ، جو روبوٹ تیار کرنے والی ٹیم میں شامل تھیں، کہتی ہیں کہ انسانی جذبات اور احسات کو سمجھنے اور اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ردعمل ظاہر کرنے والے اس روبوٹ میں الیکٹرانک آلات پر مبنی انتہائی پیچیدہ نظام موجودہے۔ اس کی آنکھوں میں ویڈیو کیمرے نصب ہیں، جو اپنے قریب آنے والے ہر شخص کی نقل و حرکت اور حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے ہیں۔ جہاں سے یہ معلومات فوراً روبوٹ کے دماغ کو منتقل ہوجاتی ہیں۔

روبوٹ ۔ ناؤ

روبوٹ ۔ ناؤ

ناؤ کے دماغ کا الیکٹرانک نظام انسانی دماغ کے خلیوں سے مشابہت رکھتا ہے اور وہ اپنے مشاہدے میں آنے والے ہرشخص کی نہ صرف تصویر اپنی یاداشت میں محفوظ کرلیتا ہے بلکہ یہ بھی یاد رکھتا ہے کہ اس شخص نے اس کے ساتھ کیا برتاؤ اور سلوک کیاتھا۔

کنامیرو کا کہنا ہے کہ ربوٹ ناؤ ، اپنے حافظے میں محفوظ ہونے والی تمام معلومات کو دوبنیادوں پر پرکھتا ہے، یعنی اچھا اور برا ۔ اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد وہ اپنا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

کنامیرو، جو ہرٹ فورڈ شائر یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں مصنوعی عقل و فہم کی ایک ماہر ہیں، کہتی ہیں کہ روبوٹ ناؤ کے ہر ردعمل کی پہلے سے پروگرامنگ کی گئی ہے، مگر وہ یہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہے کہ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے اس نے کب اورکیا ردعمل ظاہر کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ نئے روبوٹ میں بطور خاص یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اپنے سامنے موجود شخص کے چہرے کے تاثرات، مسکراہٹ ، چہرے کی تیوریوں اور اس کی باڈی لینگویج کو محسوس کرکے اسے سمجھ سکے اور اپنا ردعمل دے سکے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ابتدا ہے، آنے والے دنوں میں روبوٹ نسبتاً زیادہ ذہین ہوں گے اور اپنے فیصلے اور کام آزادانہ انجام دے سکیں گے۔

روبوٹ ۔ ناؤ

روبوٹ ۔ ناؤ

اس وقت دنیا بھر میں بہت سی تجربہ گاہوں، صنعتی اداروں ، اسپتالوں اور گھروں میں روبوٹ کام کررہے ہیں۔ مگر ان کی نوعیت محض ایک الیکٹرانک مشین کی سی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹوں کی اس نئی نسل کے بعد وہ انسانوں ہی طرح اپنے فرائض سرانجام دیں گے اور اپنے مالک یا افسر یا اپنے ساتھیوں کے جذبات و احساسات کو بھی سمجھ سکیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ناؤ نسل کے روبوٹ گھروں میں ان معمرافراد کے بہتر خدمت گذار ثابت ہوسکتے ہیں جنہیں تنہائی اور دیکھ بھال کے مسئلے کا سامنا ہے۔ ناؤ نہ صرف ان کی دیکھ بھال کریں گے بلکہ ان کے دکھ سکھ میں شامل ہوکر ایک دوست کی طرح ان کے ساتھ رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG