رسائی کے لنکس

اسرائیل کے سیاحتی شہر پر راکٹ حملے


اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق مصر کے علاقے جزیرہ نما سینا سے فائر کیے گئے دونوں راکٹ ایک غیر آباد علاقے میں گرے

اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مصر کے علاقے سے فائر کیے جانے والے دو راکٹوں نے بحیرہ احمر کے کنارے واقع سیاحتی شہر ایلات کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق مصر کے علاقے جزیرہ نما سینا سے فائر کیے گئے دونوں راکٹ بدھ کو ایک غیر آباد علاقے میں گرے جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

امکان ہے کہ یہ واقعہ صحرائے سینا میں بڑھتی ہوئی بد امنی سے متعلق اسرائیلی تشویش میں اضافہ کرے گا جہاں حالیہ مہینوں میں مسلمان شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

علاقے میں سرگرم مسلم شدت پسند تنظیم 'میغل شوریٰ المجاہدین' نے بدھ کو کیے جانے والے رکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگجووں نے ایلات کو راکٹوں کا نشانہ بنایا اور کامیابی کے ساتھ علاقے سے فرار ہوگئے۔

مصری سیکیورٹی حکام نے بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ راکٹ سینا کی حدود سے ہی فائر کیے گئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم مصری اور فلسطینی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو 'القاعدہ' کے نظریات سے متاثر ہیں۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ حملہ اسرائیل میں قید اپنے ایک ہم وطن کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی حملے کے ردِ عمل میں کیا ہے۔

خیال رہے کہ 64 سالہ فلسطینی قیدی میسرہ ابو حمدیہ کی ایک اسرائیلی جیل میں ہلاکت پر مغربی کنارے میں احتجاج کرنےو الے فلسطینی باشندوں پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے دو ہفتے قبل ایک نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کو سرطان کا شکار قیدی ابو حمدیہ کو علاج معالجے کی سہولت فراہم نہیں کی تھی جو ان کی موت کا سبب بنا۔ اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

راکٹ حملوں کے فوری بعد اور شدت پسند تنظیم کی جانب سے ان کی ذمہ داری قبول کرنے سے قبل ایک اعلیٰ اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے کہا تھا کہ علاقے میں بعض ایسے دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں جو اسرائیلیوں کو قتل اور معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرکے مصر اور اسرائیل کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں۔

سینئر اسرائیلی عہدیدارایموس گیلاڈ نے 'اسرائیل ریڈیو' سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کا ملک سیکیورٹی سے متعلق امور پر مصری حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں، گیلاڈ کے بقول، شدت پسند گروہوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔

اسرائیلی عہدیدار نے اپنی گفتگو میں ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ راکٹ حملوں کے تدارک کے لیے ان کا ملک سینا کے علاقے میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ رکھتا ہے جیسا اس نے گزشتہ برس فلسطینی علاقے غزہ میں کیا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے مصر میں ایسی کوئی بھی فوجی کاروائی دونوں ملکوں کے درمیان 1979ء میں طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
XS
SM
MD
LG