رسائی کے لنکس

افغانستان میں امریکی فورسز کا کردار بڑھانے کا فی الوقت امکان نہیں


افغان اسپیشل فورسز (فائل فوٹو)

افغان اسپیشل فورسز (فائل فوٹو)

عہدیدار کہتے ہیں کہ گزشتہ سال حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں طالبان کو بہت مشکل کا سامنا ہے اور افغان فورسز آہستہ خرامی سے ایک کے بعد دوسرا آپریشن کرنے کی صلاحیت حاصل کرتی جا رہی ہیں۔

افغانستان میں سلامتی و استحکام کی ذمہ داریاں گوکہ افغان فورسز کے سپرد ہیں لیکن یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہاں موجود امریکی اسپیشل فورسز کے کردار میں آئندہ آنے والے دنوں میں اضافہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "اس ضمن میں تاحال کوئی اشارہ نہیں ہے۔ ان (فوجیوں) کا بنیادی کردار تربیت، مشاورت اور معاونت فراہم کرنا ہے۔"

لیکن ان کے بقول اگر طالبان گزشتہ سال حاصل کی گئی کامیابیوں کو جاری رکھتے ہوئے اپنا دائرہ بڑھانے کا راستہ اپناتے ہیں اور اگر افغان حکومت آمادہ ہوئی تو امریکی اسپیشل فورسز کا افغاستان میں کردار تبدیل ہوسکتا ہے۔

"لیکن یہی بہتر ہے کہ یہ ذمہ داری میزبان ملک پر ہی رہے۔"

امریکی فورسز کے کردار میں اضافے کا سوال اس وقت سے زیادہ شدومد کے ساتھ سر اٹھا رہا ہے جب رواں کے وائل میں جنوبی صوبہ ہلمند کے علاقے مرجاہ میں امریکی فوجیوں کی ایک یونٹ شدت پسندوں کے حملے کی زد میں آئی اور اسٹاف سارجنٹ میتھیو میک کلنٹوک اس میں ہلاک ہوگئے۔

امریکہ، عراق اور شام میں بھی تربیت اور مشاورت کے لیے اپنی اسپیشل فورسز پر انحصار کرتا آیا ہے۔ محکمہ دفاع نے گزشتہ ماہ ان کے کردار کو بڑھاتے ہوئے ان کے دائرہ کار میں چھاپہ مار کارروائیوں، انٹیلی جنس معلومات کا حصول اور داعش کو نشانہ بنانا شامل کیا۔

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے ان اضافی ذمہ داریوں سے متعلق قانون سازوں کو بتایا تھا کہ " ہم داعش کی تمام قیادت اور اس کے پیروکاروں میں یہ سنسنی پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ انھیں اب معلوم نہیں ہوگا کہ کھڑکی سے کون داخل ہو رہا ہے۔"

گو کہ حکام کا کہنا ہے کہ اسپیشل فورسز کا ایسا ہی کردار فی الوقت افغانستان میں ضروری نہیں جہاں ملک کے 400 سے زائد اضلاع میں سے صرف نو پر ہی طالبان کا اثر و رسوخ ہے۔

عہدیدار کہتے ہیں کہ گزشتہ سال حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں طالبان کو بہت مشکل کا سامنا ہے اور افغان فورسز آہستہ خرامی سے ایک کے بعد دوسرا آپریشن کرنے کی صلاحیت حاصل کرتی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG