رسائی کے لنکس

رومیو جیولٹ اب انٹرنیٹ پر


رومیو جیولٹ اب انٹرنیٹ پر

رومیو جیولٹ اب انٹرنیٹ پر

انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورک سائٹس طالب علموں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے معلومات کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ ویب سائٹس دنیا بھر کے لوگوں کو قریب لانے اور تعمیری سوچ کے فروغ کے لیے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ان دنوں برطانیہ میں ایسی ہی ایک کوشش انگریزی ادب کے سب سے بڑے ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کے نظریات کو متعارف کرانے کے لئے ایک اچھوتے انداز میں کی جاری ہے، جس میں ان کے ایک ڈرامے کے دو مشہور کرداروں رومیو اور جولیٹ کو اکیسویں صدی کا چولا پہنایا گیا ہے۔

شیکسپئیر کے ڈرامے گزشتہ چار سو سال سے دنیا میں ہر جگہ پیش کئے جا رہے ہیں ۔ لیکن اپنے انداز کی پہلی کوشش ہے ۔رومیو اور جولیٹ کی کہانی کی سب سے نئی شکل ہے جسے چھ اداکار سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کھیل رہے ہیں ۔ ان کی کوشش ہے کہ کہانی کی اصل شکل تبدیل نہ ہو ۔ مگر کہانی کی جزئیات میں تبدیلی کی گئی ہے ۔ جولیٹ کا کردار نبھانے والی شارلٹ ویک فیلڈ کہتی ہیں کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ آپ کو جولیٹ کی کہانی اپنے الفاظ میں سنانی ہوتی ہے ، یہ آسان نہیں ہے کہ آپ اپنے کردار کی بات صرف ایک سو چالیس حروف تہجی کی مدد سے دوسرے تک پہنچا دیں ۔

سوال یہ بھی ہے کہ ایک سو چالیس حروف اور انٹر نیٹ کی آج کی زبان کے استعمال سےکیا شیکسپئیر کی لکھی کہانی کو نقصان تو نہیں ہو رہا ۔جیمز بیریٹ کہتے ہیں کہ ان کا کردار شیکسپیئر کے کردار سے بالکل مختلف نہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ دلچسپ جملے سوچنا اور دنیا کو اپنی نظموں کے بارے میں بتانا بہت دلچسپ لگ رہا تھا ۔

لیکن یہ انٹرنیٹ والا رومیو بہت حد تک اکیسویں صدی کی پیداوار ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ میں تو اس رومیو کو برطانیہ میں رہنےو الا ایک19 سالہ عام نوجوان ہی کہوں گا ۔جو زندگی اور اس کی رنگوں سے محبت کرتا ہے ، اپنے خاندان خصوصا اپنے والد کے قریب ہے ، اور بالکل نارمل نوجوان ہے ۔

مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں کو شیکسپیئر پڑھنے کی ترغیب دی جائے ۔

ڈائریکٹر رکسانہ سلبرٹ کا کہنا ہے کہ ہم جو کر رہے ہیں اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو اپنے طریقے سے شیکسپیئر کے قریب لانے کی کوشش ہے ۔اور ظاہر ہے نوجوانوں کو شیکسپیئر پڑھنے میں سب سے مشکل اس کی زبان سمجھنے میں پیش آتی ہے ۔ ہمارے کرداروں نے شیکسپیئر کی زبان کی نقل نہیں کی بلکہ اپنے انداز میں اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

یہ نئی زبان شیکسپیئر کی زبان سے کہیں آسان ہے ۔جبکہ نیٹ ورکنگ سائٹس کی زبان ویسے ہی عام زبان سے مختلف ہے ۔ منتظمین کے مطابق یہی چیز ان نوجوانوں کو شیکسپئیر کے قریب لا سکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں یہ ان لوگوں کو متاثر کرے گی جو نہیں جانتے کہ شیکسپیئر کون اور کیا ہے ،وہ کیسے لکھتا تھا اور اس کی کہانی کیسے نوجوانوں تک پہنچ سکتی ہے ۔

گویا انٹرنیٹ کی دنیا نے شیکسپیئر جیسے لکھنے والوں کے کام کوآئندہ کئی برسوں تک کے لئے نئی زندگی دینے کی ایک کوشش کی ہے ۔

XS
SM
MD
LG