رسائی کے لنکس

صدر اوباما کے الفاظ میں: ’بس میں نشستوں کا مخصوص کیا جانا اور سیٹ خالی نہ کرنے کا ایک معمولی سا انداز، عزت نفسی، بے انصافی کو برداشت نہ کرنا مثالی اصول کی علامت بنا، جس نے شہری حقوق کی تحریک میں نئی جان ڈالی اور یہ تحریک امریکہ بھر میں پھیل گئی‘

ساٹھ برس قبل آج ہی کے دِن روزا پارکس نے ریاست الاباما کے شہر منٹگمری میں مخصوص کی گئی بس کی نشست پر بیٹھنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد ایک سال تک اصولی بائیکاٹ جاری رکھا، جس نے امریکہ میں شہری حقوق کی جدوجہد کو نئی سمت اور نئی جہت بخشی۔

اُس وقت 42 برس کی اِس سرگرم کارکن کو شہری احکامات کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جس میں سیاہ فام مسافروں کو بس کی پشت والی نشتوں پر بیٹھنے کا پابند کیا گیا تھا، جب کہ آگے والی نشستیں سفید فاموں کے لیے تھیں، جب کہ درمیان والی سیٹیں دونوں نسلوں کے لیےمخصوص تھیں۔ تاہم، سفید فاموں کی جانب سے درخواست کیے جانے پر سیاہ فاموں کو پچھلی نشستوں کی طرف جانا پڑتا تھا۔
منٹگمری کے کئی ایک مکینوں کی طرح، پارکس کو شہر کی بسوں میں برتی جانے والی تفریق پر احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ تاہم، اُن کی گرفتاری کے بعد 385 دِنوں تک بسوں کا بائیکاٹ کیا گیا، جس پر امریکہ کی عدالت عظمیٰ کو شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ میں برتی جانے والے تفریق کا نوٹس لے کر فیصلہ دینا پڑا۔


سنہ 1995 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں پارکس نے کہا تھا کہ اُنھیں اپنی گرفتاری پر ذرہ برابر غصہ نہیں آیا۔

تاہم، بقول اُن کے، ’میرے عزم میں اضافہ ضرور آیا کہ میں نے اس موقعے سے یہ بات عام کی کہ مجھ سے اس طرح پیش آنا مناسب نہیں اور یہ کہ لوگوں نے یہ اذیت بڑے عرصے تک برداشت کی ہے‘۔

امریکی صدر براک اوباما نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پارکس کی عمر بھر کی جستجو اور اُن کا باہمت انداز ہمارے لیے آج تک باعثِ تقلید بنا ہوا ہے‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’بس میں نشستوں کا مخصوص کیا جانا اور سیٹ خالی نہ کرنے کا ایک معمولی سا انداز، عزت نفسی، بے انصافی کو برداشت نہ کرنا مثالی اصول کی علامت بنا، جس نے شہری حقوق کی تحریک میں نئی جان ڈالی اور یہ تحریک امریکہ بھر میں پھیل گئی‘۔

سنہ 2005 میں 92 برس کی عمر میں اُن کا انتقال ہوا۔ سنہ 2013 میں پارکس کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی عمارت میں قدآور مجسمہ نصب کرکے خراج عقیدت پیش کیا گیا، جس کی وہ حقدار تھیں۔

XS
SM
MD
LG