رسائی کے لنکس

ایران کے صدر نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ "مثبت جذبے" سے مذاکرات کرتا رہا ہےاور چاہتا ہے کہ امریکہ بھی جو کچھ کہتا ہے اسے اپنے عمل سے ثابت کرے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک حتمی معاہدے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے تاکہ وہ اپنی تباہ حال معیشت پر توجہ دے سکے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری 'عالمی اقتصادی فورم' سے جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے ایران کے صدر نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ "مثبت جذبے" سے مذاکرات کرتا رہا ہےاور چاہتا ہے کہ امریکہ بھی جو کچھ کہتا ہے اسے اپنے عمل سے ثابت کرے۔

جناب روحانی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک سنجیدگی سے جوہری تنازع پر مذاکرات کرنے والے 'پی5+1' ممالک کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے اور ان کے بقول، انہیں اس معاہدے کی راہ میں کوئی سنجیدہ رکاوٹ نظر نہیں آرہی۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جوہری تنازع پر حتمی معاہدے کے لیے ایران کا ارادہ غیر متزلزل ہے لیکن "دیگر فریقوں کی جانب سے دباؤ" اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کا اشارہ اسرائیل کی جانب تھا جو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان عبوری معاہدے کی بھی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔

اپنے خطاب میں صدر روحانی نے امید ظاہر کی کہ عبوری معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد ایران اور یورپ کے تعلقات معمول پر آجائیں گے۔ انہوں نے غیر ملکی آئل کمپنیوں کو ایران میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران سے تجارت کرنے والے بین الاقوامی تیل کمپنیوں کو پرکشش مراعات دیں گے۔

ڈیووس میں ایرانی صدر نے آئل کمپنیوں کے سربراہان اور اعلیٰ عہدیداران کے ایک علیحدہ اجلاس سے بھی خطاب کیا اور یورپی کمیشن کے صدر جوس مینوئل بروسو سمیت کئی اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
XS
SM
MD
LG