رسائی کے لنکس

تجزیہ کاروں کے مطابق، ترکی کی طرف سے انتہا پسند اسلامی گروپ،’النصرہ‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد، اب ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے

ایرانی صدر پیر کے روز سے ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ جب سے صدر حسن روحانی منتخب ہوئے ہیں، ترکی کا یہ اُن کا پہلا دورہ ہے، جس میں اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کے ساتھ ساتھ، شام، تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات ایجنڈا پر سر فہرست ہوں گے۔

لیکن، استنبول سے ڈوریان جونز اپنی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ دورے کے دوران خصوصی طور پر کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے پر توجہ مبذول رہے گی۔

ایرانی صدر حسن روحانی ایسے وقت ترکی کا دورہ کر رہے ہیں جب یہ توقعات جنم لے رہی ہیں کہ اُن کے اس دورے سے آپسی تناؤ کم کرنے اور مصالحت کی راہ ہموار ہوگی۔

شام کے تنازعے پر ترکی اور ایران کا مؤقف متضاد ہے، جب کہ مسٹر روحانی کے پیش رو محمود احمدی نژاد ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان کے خلاف تندو تیز الفاظ کا استعمال کیا کرتے تھے۔

سینان اُلجن، برسلز میں قائم ’کارنیگی انسٹی ٹیوٹ‘ کے ایک تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسٹر روحانی کے انتخاب کےباعث باہمی تعلقات کے حوالے سے ایک نیا ماحول پیدا ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ترکی کی طرف سے بنیاد پرست اسلامی گروپ، ’النصرہ‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

یہ الزام کہ ترکی علاقے میں سنی فرقے کی سوچ کو فروغ دینے کی پالسی پر کاربند ہے، اکثریتی شیعہ آبادی والے ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں حائل تھی۔

ترکی کے سابق سفیر اور ’تسام‘ نامی تحقیقی تنظیم کے معاون سربراہ، مراد بلہن کا کہنا ہے کہ ترکی کو اس بات کا اندازہ ہے کہ وہ علاقے میں تیزی سے تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

ایرانی صدر کی انقرہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران، شام کے ساتھ باہمی تجارت اور ایران کے جوہری توانائی کے متنازع پروگرام ایجنڈا پر سر فہرست ہوگا۔ تجزیہ کار، اُلجن کے مطابق، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی ماحول میں آنے والی بہتری کے باوجود، وہ نہیں سمجھتے کہ اس دورے کے نتیجے میں کوئی پیش رفت ممکن ہوگی۔

جوہری توانائی کے پروگرام کے سلسلے میں ایران کے بین الاقوامی برداری کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی کو نہ صرف ترکی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے، بلکہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی اقدام سے بچنے میں معاون خیال کرتا ہے؛ بلکہ ساتھ ہی، اس سے تجارت کا دروازہ کھلنے کی راہ ہموار ہونے اور بالآخر، بین الاقوامی تعزیرات اٹھائے جانے کا سبب بنے گی۔

پہلے ہی، ایران ترکی کو توانائی فرہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اور دونوں ملک باہمی تجارت کو وسیع تر کرنے کے عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

جنوری میں ایران کے دورے کے دوران، مسٹر اردگان نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ سال سے باہمی تجارت کو دوگنا کرکے 30 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچایا جائے گا۔

تاریخی طور پر، ترکی اور ایران کے تعلقات ’رقابت اور تعاون‘ کے گِرد گھومتے رہے ہیں۔

توقع کی جاری ہے کہ ایرانی اور ترک سربراہان مخاصمت کی بجائے تعاون کی اہمیت پر زور دیں گے۔ تاہم، تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ کسی قسم کے تعاون کا دارومدار شام میں جاری تنازعے اور ایران کے جوہری توانائی کے معاملے پر بات چیت میں پیش رفت پر منحصر ہوگا۔
XS
SM
MD
LG