رسائی کے لنکس

سی این جی کی عدم موجودگی کی وجہ سے جمعہ کو سارا دن تمام سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرتی رہیں۔ لوگوں کو دفاتر اور کاروباری مراکز جبکہ بچوں کو اسکول اور نوجوانوں کو کالج جانے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا

کراچی میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک لمبی چوڑی مسافتیں طے کرنے والا پبلک ٹرانسپورٹ۔۔خاص کر چھوٹی بڑی بسیں۔۔شہر کی ’دھڑکن‘ ہیں۔ لیکن، جمعہ کو سی این جی کی بندش میں اچانک ایک روز کے اضافے سے یہ دھڑکنیں گویا تھم سی گئیں۔

شیڈول کے مطابق، شہر بھر کے سی این جی اسٹیشن 24گھنٹے بعد جمعہ کی صبح کھلنا تھے، لیکن بندش میں بغیر کسی وقفے کے مزید 24گھنٹے کا اضافہ کردیا گیا۔ اب، سی این جی اسٹیشن ہفتے کی صبح کھلیں گے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ پریشر میں کمی کے باعث بندش میں اضافہ کیا گیا ہے۔

سی این جی کی عدم موجودگی کی وجہ سے جمعہ کو سارا دن تمام سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرتی رہیں۔ لوگوں کو دفاتر اور کاروباری مراکز جبکہ بچوں کو اسکول اور نوجوانوں کو کالج جانے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں ان سب مقامات پر حاضری بھی کم رہی۔

بس اسٹاپس پر دن بھر لوگوں کا رش رہا۔ تاہم، ایسے میں رکشا اور چن چی والوں کے مزے آگئے۔ انہوں نے مسافروں سے زیادہ پیسے وصول کئے۔ بورڈ آفس کے بس اسٹاپس سے چن چی کے ذریعے سفر کرنے والی ایک ادھیڑ عمر خاتون سلیمہ نے وی او اے کے نمائندے کو بتایا ’جس دن بھی گیس نہیں ہوتی چن چی والوں کے مزے آجاتے ہیں۔ عام دنوں میں وہ بورڈ آفس سے سرجانی ٹاوٴن کا کرایہ 25روپے لیتے ہیں، جبکہ گیس کے ناغے والے دن کرایہ بڑھاکر 30روپے کردیتے ہیں۔۔۔مصیبت یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں‘۔

سلیمہ کی شکایت پر ایک رکشا ڈرائیور طارق کا کہنا تھا کہ، ’جس دن گیس نہیں ہوتی ہمیں پیٹرول یا ایل پی جی پر رکشا چلانا پڑتا ہے جو گیس کے مقابلے میں مہنگا ہوتا ہے۔ اس لئے، کرایہ زیادہ لیتے ہیں۔۔مجبوری ہے۔آج بھی سب یہی کہہ رہے ہیں کہ گیس کل صبح کے بجائے رات آٹھ بجے کھلے گی یعنی گیس کی بندش کا دورانیہ اس وقت تک 60گھنٹے ہوجائے گا۔۔۔ہم کریں تو کیا کریں‘۔

گیس کی بندش سے صرف ڈرائیور ہی پریشان نہیں بلکہ سی این جی ایسوسی ایشن بھی اس پر شدید احتجاج کرتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شبیر سلیمان کا کہنا ہے کہ ’سوئی گیس والوں کی جانب سے جان بوجھ کر یہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ اگر 48 گھنٹوں سے زیادہ بندش جاری رہی تو ایسوسی ایشن اور کراچی ٹرانسپورٹرز جلد آئندہ کے سخت لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔‘

گرین بس سروس بھی ناکام ۔۔!!
سندھ حکومت نے رواں ماہ ہی 35نئی سی این جی بسوں کا افتتاح کیا تھا جو قائد آباد سے ٹاور کے روٹ پر چلتی ہیں۔ اگرچہ جمعہ کو نجی بسوں کی عدم موجودگی کے باوجود، گرین بسیں چلتی رہیں۔ لیکن، ان میں بلا کا رش دیکھا گیا حتیٰ کہ بسوں کی تعداد کم پڑ گئی۔

حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کئی سال پہلے تک مختلف روٹس پر 72سی این جی بسیں چلا کرتی تھیں۔ لیکن عرصے سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے اور سٹی گورنمنٹ کے وجود کے بغیر ان بسوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہوسکی اور اس وقت کے ناظم اعلیٰ سید مصطفیٰ کمال کے عہدے سے ہٹتے ہی ان بسوں کو بھی ناکارہ قرار دے کر ادھر ادھر کھڑا کردیا گیا۔

حکومت سندھ کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق چند ماہ قبل چار کروڑ روپے کے فنڈز سے تقریباً35بسوں کو قابل استعمال بنایا گیا اور رواں ماہ ہی وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سی این جی بسوں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ لیکن، بقول مبصرین، سی این جی کی کمیابی سے اس منصوبے کا مستقبل بھی تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ پھر یہ بسیں جسامت میں اتنی بڑی ہیں کہ شہر کی سڑکیں جو پہلے ہی تنگ ہیں بے تحاشہ رش کی وجہ سے ان کا روانی سے چلنا مشکل ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام سڑکوں پر انہیں چلایا بھی نہیں جاسکتا۔

یہ وہ صورتحال ہے جس سے ٹرانسپورٹ عرصے سے شہر کا سنگین مسئلہ بناہوا ہے اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے یہ مسئلہ ختم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔ اب شہر کی ساری امیدیں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے حال ہی میں اعلان کئے جانے والے ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبے سے جڑ گئی ہیں۔ ہوسکتا ہے اس منصوبے کے بعد یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔

XS
SM
MD
LG