رسائی کے لنکس

شہزادہ ولیم کی والدہ لیڈی ڈیانا کو بھی ملکہ برطانیہ نے شادی کے بعد پرنسیس آف ویلز اور شہزادی چارلس کے لیے پرنس آف ویلز کے لقب کا انتخاب کیا تھا

شہزادی کیتھرین میڈیلٹن کے ہونے والے بچے کوسرکاری سطح پر دیئے جانے والے نام کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔ شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکہ الزیبیتھ نے ننھے شاہی مہمان کے لیے شاہی لقب کا انتخاب کرلیا ہے۔
گذشتہ روزسینٹ جیمس پیلس سےجاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہےکہ سلطنت برطانیہ کے تیسرے جانشین کو شاہی روایات کے مطابق نام سے پہلے 'رائل ہائی نیس' (عزت ماب) کے اعزاز سےنوازا جا ئے گا۔ بیٹے کے لیے 'پرنس آف کیمبرج' اور بیٹی کے لیے 'پرنسیس آف کیمبرج' کا لقب استعمال کیا جائے گا۔
ملکہٴالزیبیتھ 31 دسمبرکو اس بات کا اعلان کر چکی تھیں کہ مستقبل کی ملکہ یا بادشاہ کو اس کے شایان شان'شہزادہ' یا 'شہزادی' کے نام سے پکارا جائے گا جبکہ، شہزادہ ولیم کے دوسرے بچے بھی اسی نام سے پکارے جائیں گے۔
شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہی لقب کا انتخاب ملکہ برطانیہ اپنی ذاتی پسند سے کرتی ہیں جس میں کئی دوسرے پہلو بھی مد نظررکھے جاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ رائل بے بی کے لیے پرنس آف کیمبرج یا پرنسیس آف کیمبرج کا لقب منتخب کرنے کی وجہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کےشاہی القاب ہوں جو' ڈیوک' (جاگیردار) اور'ڈچز' (جاگیردارنی) آف کیمبرج کہلاتے ہیں۔
ملکہ برطانیہ نے شہزادہ ولیم کو ان کی شادی کے موقع پر ڈیوک آف کیمبرج کے لقب سے نوازا تھا اوراسی مناسبت سے شہزادی کیٹ کے لیے ڈچز آف کیمبرج کا لقب منتخب کیا گیا تھا۔ شہزادہ ولیم کی والدہ لیڈی ڈیانا کو بھی ملکہ برطانیہ نے شادی کے بعد پرنسسزآف ویلز اورشہزادی چارلس کے لیے پرنس آف ویلز کے لقب کا انتخاب کیا تھا۔
شاہی محل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کیمبرج شہر کے ساتھ شاہی خاندان کا پشتوں سے لگاؤ رہا ہے۔ شہزادہ ولیم کے آباؤ اجداد کا شمار جارج سوئم کے بیٹے کے خاندان سے ہوتا ہے جنھوں نے سنہ1801 میں کوئین میری سے شادی کرنےکے بعد کیمبرج شہر کو آباد کیا تھا۔
کیمبرج کا شہر لندن سے 80 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے جسے عام طور پر میں یونیورسٹی شہر کے نام سے جانا جاتا ہے، کیمبرج یونیورسٹی کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔
XS
SM
MD
LG