رسائی کے لنکس

شہزاد ہ ولیم کی شادی پر سخت سیکیورٹی انتظامات


شہزاد ہ ولیم کی شادی پر سخت سیکیورٹی انتظامات

شہزاد ہ ولیم کی شادی پر سخت سیکیورٹی انتظامات

برطانیہ میں بسنے والا ہر فرد شاہی خاندان سے محبت نہیں رکھتا۔ جیسا کہ حکومت مخالف چارلی ویچ ہیں ۔ ان کا کہناہے کہ میرا موقف یہ ہے کہ شاہی خاندان کی شادی کی تیاریوں اور سیکیورٹی پر عوام کا ٹیکسوں کی رقوم کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کے نزدیک برطانوی شاہی خاندان کا نظام جبر و تسلط کا نظام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاسپورٹ پر’ ہم برطانوی شہری کی بجائے برطانوی شاہی نظام کے تابع ہیں‘ کے الفاظ درج ہیں اور میں اس کے سو فی صد خلاف ہوں۔

ویچ کی تنظیم دی لو پولیس جمعے کو جس روز شہزادہ ولیم کی کیٹ میڈلٹن سے شادی ہے ۔۔۔ لندن کے ٹرافلگر اسکوئر پر مظاہرہ کرے گی۔
ویچ کے مطابق ان کی تنطیم کا مقصد برطانوی شاہی نظام کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم شاہی خاندان کی شادی پر ہونے والے بے تحاشا پیسے کے ضیاع کے ساتھ ساتھ برطانوی شاہی خاندان کے جبر کے نظام کو شکست دینا چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال برطانوی شاہی نظام کے خلاف اس وقت لوگوں میں شدید غصہ و احتجاج دیکھنے میں آیا تھا جب مظاہرین کے ایک ہجوم نے شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کیمیلا کا گھیراؤ کرلیا تھا۔ ہجوم یونیورسٹیوں کی فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہا تھا۔

لیکن مسئلہ صرف انتشار پھیلانے والوں کا نہیں بلکہ اس موقعے پر دہشت گرد تنظیموں کا خطرہ بھی ہے۔ 2005

ء میں لندن کے زیر ِ زمین ریلوے نظام میں کیے جانے والے دھماکوں کے باعث سینکڑوں افراد ہلاک جبکہ بہت سے زخمی ہو گئے تھے۔
جبکہ رواں ماہ کے آغاز میں دہشت گرد تنظیم آئی آر اے کی جانب سےایک کار بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

انتہا پسندی کے رجحانات پر تحقیقی ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار دی اسٹڈی آف ریڈی کیشن کی سربراہ جان بیوکے نزدیک حالات خطرناک ہیں۔

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ القاعدہ یا پھر آئی آراے جیسی دہشت پسند تنظیمیں شاہی شادی کو اپنا ہدف بنا سکتی ہیں۔

جمعے کو شاہی خاندان کے شادی والے روز لندن کی سڑکیں لوگوں سے بھری ہوں گی۔برطانوی سیکورٹی ادارے پہلے ہی چوکس ہیں۔ اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیےلندن کی زمینی اور فضائی نگرانی کی جارہی ہے ۔

جان بیو کہتے ہیں کہ برطانوی سیکورٹی ادارے بہت تجربہ کار ہیں اور جانتی ہیں کہ ایسے مواقع پر کیا کرنا چاہیے۔ برطانوی شاہی خاندان پر ماضی میں حملے بھی ہوئے اور وہ قتل بھی کیے گئے۔ جیسا کہ ملکہ الزبتھ کے کزن لارڈ ماؤنٹ بیٹن جنہیں دہشت گرد تنظیم آئی آر اےنے 1979ء میں قتل کیا۔ اس لیے سیکیورٹی ایجنسیاں بخوبی جانتی ہیں کہ انہیں اس موقع پر کیا کرنا ہے۔

اس موقعے پر کیے جانے والے سخت ترین حفاظتی انتظامات کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے کافی ہوں گے لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ کہیں مخالفین کی جانب سے شاہی خاندان پر تنقید شادی کی رونق کو بدمزہ نہ کردے۔

XS
SM
MD
LG