رسائی کے لنکس

مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے اِس بات کا عندیہ دیا ہے کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے اور تشدد کے مسئلےکو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے

اب جب کہ پاکستان میں انتخابات مکمل ہوچکے ہیں اور یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وفاق میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور صوبہٴخیبر پختونخواہ میں ممکنہ طور پر تحریکِ انصاف کی سربراہی میں حکومت تشکیل پائے گی، ملک کے اندر ایک مرتبہ پھر پاکستانی طالبان سے امن مذاکرات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

دونوں جماعتیں اِس بات کا عندیہ دے رہی ہیں کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے اور تشدد کے مسئلےکو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

دونوں پارٹیاں اپنے اپنے طور پر اِس معاملے میں پیش رفت کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں۔

شائع شدہ خبروں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس سلسلے میں جمعیت العلمائے اسلام (س) کے مولانا سمیع الحق سے اعانت فراہم کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔

اِس حوالے سے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما، ریٹائرڈ جنرل عبد القیوم نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اِس معاملےمیں بہت سارے پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا، جِن میں ڈائلاگ کی نوعیت، دونوں جانب سے مذاکرات کی شرائط اور پھر زمینی حقائق کو دیکھنا ہوگا اور یہ بھی کہ یہ بات چیت بالواسطہ ہوگی یا بلا واسطہ؛ اور یہ کہ یہ ڈائلانگ سویلین قیادت کے ساتھ ہوں گے یا سکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ ہوں گے۔

تحریک انصاف کے ایک سینئر رہنما، عمران اسماعیل نے بھی ’وائس آف امریکہ‘ کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام ’راؤنڈ ٹیبل‘ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ریٹائرڈ جنرل عبد القیوم کی اس بات سے اتفاق کیا کہ طالبان کو پاکستان کے آئین کو ماننا پڑے گا اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ کا احترام کرنا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس کے علاوہ بات چیت نہیں ہو سکتی۔

عمران اسماعیل نے اِس توقع کا اظہار کیا کہ ایک مرتبہ جب ہم اُن کو مذاکرات کی میز پر لائیں گے تو اُن کے پاس راستے کم ہو جائیں گے اور اُن کو ہم سے بات چیت کرنی ہوگی۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG