رسائی کے لنکس

مشرق وسطی میں غلط عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں: رمز فیلڈ


مشرق وسطی میں غلط عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں: رمز فیلڈ

مشرق وسطی میں غلط عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں: رمز فیلڈ

امریکہ کے سابق سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے مشرق وسطی ملکوں کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہاں اچھے لوگ موجود ہیں مگر ایسے عناصر بھی ہیں جو صورتحال کاغلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ سابق امریکی سیکرٹری دفاع کا کہناتھا کہ لیبیا کے صدر معمر قذافی کی حکومت نے واحد اچھا کام صدام حسین کی شکست کے بعد اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر کے کیا تھا ۔ ڈونلڈرمز فیلڈ نے یہ بات واشنگٹن میں اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب KNOWN AND UNKNOWN کی تعارفی تقریب کے موقعے پر کہی ۔

ڈونلڈ رمز فیلڈ امریکہ کے تیرھویں اور اکیسویں سیکرٹری دفاع کے طور پر انیس سو پجھتر سے انیس سو ستتر تک صدر جیرالڈ فورڈ اور دو ہزار ایک سے دو ہزار چھ تک صدر بش کے دور میں امریکی تاریخ کے انتہائی اہم مرحلوں کے فیصلہ ساز رہے ہیں ، جن میں عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں سے لے کر ابو غریب جیل اور گوانٹانامو کے قیدخانوں جیسے کئی متنازعہ معاملات بھی شامل ہیں ۔ لیکن واشنگٹن میں اپنی سوانح عمری نون اینڈ ان نون کی تعارفی تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ گیارہ ستمبر دوہزار ایک امریکہ کی دفاعی پالیسی میں ایک ایسا موڑ تھا ، جس کی کوئی تیاری پہلے سے نہیں کی گئی تھی ، انہوں نے کہا کہ

اپنی تقرری کی سماعت کے دوران مجھے خیال آرہاتھا کہ شائد سابق امریکی وزیر دفاع میک نمارا سے ویتنام کے بارے میں پوچھا نہیں گیا تھا، ڈک چینی سے عراق کے بارے میں پوچھا نہیں گیا تھا اور نہ ہی مجھ سے افغانستان کے بارے میں پوچھا گیا تھا ، جب میری تقرری کی گئی۔ اس سے کیا پتہ چلتا ہے ؟ کہ سینیٹ کے اراکین عقلمند لوگ ہیں ، وہ آپ سے کبھی نہیں پوچھتے۔ سینیٹر رابرٹ گیٹس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کیا چیز پریشان کرتی ہے ، میں نے کہا انٹیلی جنس۔ یہ بات کہ ہم اتنی پیچیدہ دنیا ، بند معاشروں کے ساتھ نمٹ رہے ہیں جہاں خطرناک گروہوں کے عزائم اور ارادوں کو پہچاننا بہت بڑا کام ہے۔ اس لئے ہمیں غیر متوقع کی توقع ہر وقت رکھنی چاہئے ۔

ڈونلڈ رمز فیلڈ نے جو صدر ریگن کے دور میں مشرق وسطی کے لئے امریکہ کے خصوصی مندوب رہ چکے ہیں،کہا کہ مشرق وسطی میں لوگ اپنی آزادیوں اور معاشی حقوق کے لئے جوجدوجہد کر رہے ہیں ، اسے دیکھ کرامریکیوں کو اپنی آزادیوں کی قدر کرنی چاہئے ۔ رمزفیلڈ نے مشرق وسطی کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ

ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک جگہ جو ہوتا ہے وہ دوسرے کو متاثر کرتا ہے ۔ ہر ملک میں اس سے نمٹنے کی کوشش مختلف انداز سے ہورہی ہے اور اس کے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں ، لبنان کی طرف دیکھ لیں ، وہاں بھی تبدیلی آئی تھی ۔ نسلی تقسیم پر مبنی ملک ، ذہین آبادی ، سیاحوں کی جنت اور مقبول انقلاب ۔ کیا ہوا؟ اب ایک دہشت گرد تنظیم حزب اللھ چلا رہی ہے ۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ زیادہ منظم تھے ۔ ایران میں دیکھ لیں ، ایران میں بھی لوگ آزاد جمہوریت، آزاد معیشت چاہتے تھے ، کیا ہوا ؟ آیت اللہ کے حامی چلا رہے ہیں ، تو مصر میں کیا ہوگا میں نہیں جانتا ۔ یہ کہنا کہ اخوان المسلمین ایک پر امن جماعت ہے ان کے مقاصد کے بارے میں غلط فہمی ہے ۔ اس لئے مجھے ان ملکوں کی فکر ہے ۔وہاں اچھے لوگ ہیں ، انہیں اچھی توقعات ہیں ، مگر ایسے عناصر بھی ہیں جو چاہیں تو صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

بحرین اور لیبیا کی صورتحال پر امریکہ کے سابق سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ

جو واحد اچھی چیز میں قذافی کے بارے میں سوچ سکتا ہوں ، وہ یہ کہ قذافی نے صدام حسین کا حشر دیکھ کر اپنا ایٹمی پروگرام ترک کیا ،اور ایٹمی انسپیکٹرز کو مدعو کیا۔ جو ایک بڑی بات تھی ۔ کم از کم اس وقت ہمیں مشرق وسطی میں ایک ایٹمی اسلحے کی دوڑ کی فکر نہیں ہے۔ جو کہ کچھ عرصے تک جاری تھی ۔ یہ اچھی بات ہے ۔ اس کے علاوہ اس حکومت میں کچھ اچھی بات تلاش کرنا مشکل ہے ، تو میرا جواب ہے نہیں ۔ مگر بحرین مختلف ہے ۔ ہم جانتے کہ اوباماہ انتظامیہ سامنے کیا کر رہی ہے مگر اوبامانہ انتطامیہ اندرونی سطح پر کیا کر رہی ہے ہم نہیں جانتے ۔ مگر ہ میں امید کرنی چاہئے کہ وہ ٹھیک کر رہے ہونگے۔ لیکن یہ پیچیدہ صورتحال ہے ۔

رمزفیلڈ کا کہنا تھا کہ نیشن بلڈنگ امریکہ کا کام نہیں ہے ۔لیکن انہیں امید ہے کہ صدر حامد کرزائی افغانستان کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے میں کامیاب رہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہم نے افغانستان کے لوگوں کو موقعہ دیا ہے ۔ اس کے کیا نتائج ہونگے ، یہ واضح نہیں ۔ان کے مشکل پڑوسی اور پیچیدہ تعلقات ہیں ۔ انہوں نے اپنا آئین بنا لیا ہے ، پارلیمنٹ منتخب کر لی ہے ۔ ان کا ایک حال ہے ، وہ ترقی کے راستے پر ہیں۔اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا ۔ مجھے اپنی حکومت میں ان لوگوں کی بات سن کے پریشانی ہوتی ہے جو صدر کرزئی پر تنقید کرتے ہیں۔ کرزئی افغانستان کی حقیقت ہیں ،انہیں کمزور کیوں کیا جائے ۔ مجھے امید ہے کہ وہ کامیاب ہونگے ۔

رمز فیلڈ کا کہنا تھا کہ کامیابی تب ملتی ہے جب فوج اور سفارتکاری ایک ساتھ مل کر کام کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کی کمیٹیاں اور پینٹاگون کا تحریری مواد پڑھ کر ایک امریکی صدر اہم فیصلے کرتا ہے مگر یہ مواد اتنا ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں غلطی ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین امریکہ فوجی تعاون کے حق میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو بدترین کام کانگریس کر سکتی ہے ، وہ کسی ملک سے فوجی روابط ختم کر کے کر سکتی ہے جیسے انہوں نے انڈونیشیا، انڈیا ، پاکستان کے ساتھ فوجی تعلقات توڑے تھے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں طرف فوجی افسران کی کئی نسلیں ایک دوسرے سے کسی رابطے کے بغیر رہ جاتی ہیں ۔ جو بہترین چیز ہو سکتی ہے کہ دوسری ملکوں کی فوج کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات رکھے جائیں ۔ ہمارے فوجی سکول بہترین ہیں اور دوسرے ملکوں کے فوجی افسروں کے لئے بہترین جگہ ہیں کہ وہ ہمیں سمجھیں کہ ہم کیسے کام کرتے ہیں۔

اس موقعے پر لوگوں کی بڑی تعداد نے سابق امریکی سیکرٹری دفاع کی کتاب خریدی ، جس کی إٓمدنی طالبعلموں کے لئے قائم کئے گئے ایک ادارے کو دی جائے گی ۔

XS
SM
MD
LG