رسائی کے لنکس

رشدی کے دورے کی منسوخی پر تجزیہ کاروں کی متضاد آرا

  • نفیسہ ہودبھائے

رشدی کے دورے کی منسوخی پر تجزیہ کاروں کی متضاد آرا

رشدی کے دورے کی منسوخی پر تجزیہ کاروں کی متضاد آرا

دورے کی منسوخی کے باعث, میری طرح ,سلمان رشدی کے’دیگر مداحوں کوبھی سخت مایوسی‘ ہوئی: دپتی کھنہ

بھارتی نژاد متنازع مصنف سلمان رشدی کی طرف سے بھارت کے دورے کی منسوخی کے بارے میں تجزیہ کاروں نے متضاد آراٴ کا اظہار کیا ہے۔

جمعے کے روز’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں، کتابوں کی رسیا، دپتی کھنہ کا کہنا تھا کہ اُن کی طرح دورے کی منسوخی کے باعث سلمان رشدی کےدیگر ’ مداحوں کوبھی سخت مایوسی‘ ہوئی ہے۔

اِسی طرح، ممبئی سے ہی آر ایس لکشمن نے، جو کہ ’بُک چمس‘ کے سینئر منیجر ہیں، کہا کہ اُنھیں امید تھی کہ رشدی ضرور آئیں گے، لیکن ’یہ نہایت ہی مایوس کُن بات ہے‘ کہ وہ نہیں آپائے۔ بُک چمپس وہ کمپنی ہے جس کی دعوت پر رشدی بھارت آرہا تھا اور مقامی مسلمانوں کی طرف سے قتل اور احتجاجی مظاہروں کی دھمکیوں کے بعداُنھوں نے اپنا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ تقریب جے پور میں ہونے والی تھی۔

دوسری طرف، لکھنوٴ سےبابری مسجد ایکشن کمیٹی کے سربراہ، ظفریاب جیلانی نےبات کرتے ہوئے کہا کہ 1988ء کے بعد سے جب رشدی کی کتاب پر پابندی لگی تھی تب سے آج تک، اُن کی کمیٹی کا یہی مؤقف رہا ہے کہ اُنھوں نے ’گستاخانہ باتیں کی ہیں‘ اور یہی وجہ ہے کہ اُنھیں، اُن کے بقول، بھارت کے قانون کی نظر میں ’ایک مجرم قرار دیا گیا تھا‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ، ’یہی وجہ ہے کہ مقامی مسلمانوں نے کہا تھا کہ اُن کے آنے پر وہ احتجاج کریں گے۔‘

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG