رسائی کے لنکس

روس افغان طالبان رابطے، روسی سفارت کاری کا دوہرا معیار


افغان طالبان (فائل)

افغان طالبان (فائل)

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اِس امداد میں 10000 کلاشنکوف رائفلیں اور گولیوں کے لاکھوں کارتوس شامل ہیں، جن کی مدد سے حکومت دونوں داعش اور طالبان سرکشوں کے خلاف نبرد آزما ہوگی۔ افغانستان سے سویت یونین کے انخلا کے دو سے زائد عشرے بعد، روس نے حکومت افغانستان کو اپنی فوجی اور معاشی امداد بڑھا دی ہے

افغانستان میں روس نے طالبان باغیوں کے گروپ کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں، ایسے میں جب روس وسطی ایشیا مین شدت پسندوں کے انسداد کی کوششوں کی کامیابی اور ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر کبھی اُس نے قبضہ کر رکھا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان، ضمیر کابلوف نے حالیہ دِنوں ’انٹرفیکس نیوز ایجنسی‘ کو بتایا کہ ’’ہمارے اور طالبان کے درمیان رابطے کے تبادلے کی راہیں موجود ہیں‘‘۔

داعش کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ، ’’طالبان کا مفاد ہمارے مفاد سے ملتا ہے‘‘۔ وہ داعش کا حوالہ دے رہے تھے، جو گذشتہ سال افغانستان کے مشرقی خطے میں طالبان کے مخالف کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان سے تعلق بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے، روس دوغلہ پں پر مبنی سفارتی حرفت دکھا رہا ہے۔

افغانستان سے سویت یونین کے انخلا کے دو سے زائد عشرے بعد، روس نے حکومت افغانستان کو اپنی فوجی اور معاشی امداد بڑھا دی ہے، جو ملک کے متعدد علاقوں میں طالبان کے خلاف لڑائی لڑ رہا ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اِس امداد میں 10000 کلاشنکوف رائفلیں اور گولیوں کے لاکھوں کارتوس شامل ہیں، جن کی مدد سے حکومت دونوں داعش اور طالبان سرکشوں کے خلاف نبرد آزما ہوگی۔

کابل میں موجود سکیورٹی تجریہ کار، واحد مُزدہ نے کہا ہے کہ ’’روس نہیں چاہتا کہ اُسے طالبان کا حامی خیال کیا جائے۔ اُس کے کابل کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ طالبان کے ساتھ اُس کے رابطوں کا مطلب یہ نہیں کہ وہ افغان حکومت کے خلاف ہے‘‘۔

پاکستان کے انگریزی روزنامے، ’دِی نیشن‘ نے دسمبر میں خبر شائع کی تھی جس مین بتایا گیا تھا کہ طالبان رہنما، مُلا اختر منصور نے صدر ولادیمیر سے ایک خفیہ ملاقات کی ہے، جس میں طالبان کی داعش کے خلاف لڑائی میں ممکنہ روسی مدد پر گفتگو ہوئی۔

’وائس آف امریکہ‘ اِس رپورٹ کی تصدیق نہیں کرا پایا۔ ایک بیان میں طالبان نے داعش کا نام لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اُسے خودساختہ داعش کے خلاف کسی سے امداد حاصل کرنے کی ضرورت نہیں‘‘۔

تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق، افغانستان میں داعش کی سرکشی سے نمٹنے کے سلسلے میں، روس طالبان کی مدد ضروری خیال کرتا ہے۔

داعش کے وڈیو اور متعدد ملکوں کی فوجی انٹیلی جنس کے مطابق، وسط ایشیائی ملکوں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند افغانستان اور پاکستان کے مابین ’ڈورینڈ لائن‘ کے ساتھ والی قبائلے پٹی میں داعش کے لیے تربیت لیتے رہے ہیں۔

وسط ایشیائی ممالک بھی طالبان کے ہمراہ لڑتے رہے ہیں۔

روس کے ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ کچھ شدت پسندوں نے حال ہی میں داعش میں شمولیت اختیار کی ہے اور دہشت گرد کارروائیوں کے لیے اپنے آبائی ملکوں کی جانب لوٹ سکتے ہیں۔

اسٹیفن بلینک ’امریکن فارین پالیکسی کونسل‘ سے وابستہ روسی تجزیہ کار ہیں۔ بقول اُن کے، ’’روس کو اس بات پر تشویش ہے کہ وہ وسط ایشیا کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جاری لڑائی میں اپنے وسط ایشیائی اتحادیوں کی مدد کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے‘‘۔

لیکن، حکومتِ افغانستان نے کھلے عام روسی امداد کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے روس کی جانب سے طالبان کی نظر کرم پر صرف نظر کر لیا ہے۔

کابل کے صدارتی محل کے ایک مشیر نے، جنھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کی، کہا ہے کہ ’’اطلاعات کی راہیں قائم کرنے کے لیے، (افغانستان کے) کئی ایک ہمسایہ ممالک نے، جن میں روس شامل ہے، طالبان کے متعدد دھڑوں سے رابطہ کیا ہے‘‘۔

مشیر نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’شاید ازبکستان واحد ملک ہے جس نے طالبان سے رابطہ نہیں کیا۔‘‘ اُنھوں نے کہا کہ ’’روس اور طالبان کے مابین رابطے بحال کرنے میں سہولت کار کے طور پر تاجکستان نے ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے‘‘۔

کابل میں صدارتی محل کے مشیر کے مطابق، یہ بات واضح نہیں آیا طالبان نے روس سے کوئی فوجی یا مالی اعانت حاصل کی ہے۔ لیکن، یہ گروپ بین الاقوامی منظوری کی سعی کر رہا ہے۔

أفغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان باغیوں کی شدت پسند کارروائیاں بڑھی ہوئی ہیں۔ طالبان نے گذشتہ ہفتے متنبہ کیا تھا کہ لڑائیکے اس نئے موسم میں نئے حملے ہو سکتے ہیں۔ اپنے طور پر، افغان حکومت نے طالبان کے موسم بہار کے انتباہ کو ’’محض پروپیگنڈہ‘‘ قراد دیا ہے۔

افغانستان کا شمال مشرقی صوبہٴ قندوز گذشتہ سال مختصر وقت کے لیے طالبان کے زیر تسلط رہا تھا۔ افغانستان کی وزارتِ اطلاعات کے مطابق، تقریباً 1300 غیر ملکی شدت پسند، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستانی طالبان سے ہے، قندوز حملے میں شریک تھے۔

افغانستان میں داعش کے شدت پسند ننگرہار اور کُنڑ کے مشرقی صوبوں میں اکٹھے ہوئے، جہاں سے اُنھوں نے حکومت اور طالبان کی سکیورٹی چوکیوں پر کئی حملے کیے۔

حالیہ دِنوں کے دوران، افغان اور نیٹو فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ننگرہار کے معتدد علاقوں سے داعش کا صفایا کرنے میں مدد لی ہے۔ تاہم، حکومت اور داعش کی فوجوں اور طالبان اور داعش کے درمیان لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں داعش کے لڑاکا ملک کو تربیت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

افغانستان میں روسی صدر کے خصوصی ایلچی، کابلوف کے بقول، ’’اُن کے مقاصد اور ہیں۔ وہ افغانستان کو توسیع پسندی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

تاہم، اطلاعات کے مطابق، طالبان نے روس سے کہا ہے کہ داعش افغانستان کو زیادہ تر تربیت کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ تجزیہ کار، مزدہ کے بقول طالبان دہشت گرد کارروائیوں کو ہمسایہ وسط ایشیائی ملکوں تک پھیلنے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG