رسائی کے لنکس

روس میں افریقی باشندوں کو مشکلات کا سامنا

  • جیمز بروک

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ماسکو میں افریقہ سے آئے ہوئے طالب علموں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور افریقی تارکینِ کے ایک گروپ کے مطابق ماسکو میں رنگدار لوگوں کا خیر مقدم نہیں کیا جاتا۔

سوویت دور میں افریقی ملکوں سےآئے ہوئے طالب علموں کو برادر سوشلسٹ ملکوں سے آئے ہوئے مہمان سمجھا جاتا تھا اور انہیں خوش آمدید کہا جاتا تھا۔

لیکن سوویت یونین کے زوال کے بعد قوم پرست ‘سکن ہیڈز’ نے سر اٹھایا اور افریقہ اور وسط ایشیا کے مسلمان تارکینِ وطن کو روس میں ہراساں اور پریشان کیےجانے بلکہ ان کے خلاف تشدد کے واقعات بھی عام ہو گئے۔

ماسکو میں افریقہ سے آئے ہوئے طالب علموں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

جب روسی قوم پرست ‘سکن ہیڈز’ نعرے لگاتے ہیں تو وہ "چییورانی" یا کالوں کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ لیکن در اصل وہ وسط ایشیا کے مسلمان تارکین وطن کے خلاف احتجاج کر رہے ہوتے ہیں۔

لیکن ماسکو میں رہنے والے افریقی کہتے ہیں کہ انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔

ایک پروٹیسٹنٹ چرچ کے گرم آرام دہ ماحول میں دم لیتے ہوئے افریقی تارکینِ کے اس گروپ کے مطابق ماسکو میں رنگدار لوگوں کا خیر مقدم نہیں کیا جاتا۔

روکیوانی پیٹسو ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے رہنے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک بار پندرہ ‘سکن ہیڈز’ نے ایک بلڈنگ میں میرا پیچھا کیا۔ میں نے ایک کھڑکی سے کود کر اپنی جان بچائی۔ اس کشمکش میں میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔

‘‘روسی ‘سکن ہیڈز’ ماسکو میں کالے لوگوں کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ اور جب وہ ان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو پھر کوئی رو رعایت نہیں کرتے۔’’

ماسکو پروٹیسٹینٹ چیپلنسی نے گذشتہ سال افریقیوں کے خلاف 16 جسمانی حملے ریکارڈ کیے۔ ان میں سے کم از کم ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

پیگوائے نکوڈیا بھی کانگو کے رہنے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان پر کبھی جسمانی حملہ تو نہیں ہوا لیکن انہیں اکثر بری بھلی باتیں سننی پڑتی ہیں۔

‘‘زیرزمین ٹرین میں سفر کے دوران روسیوں نے ان پر(ابیزان) یا بندر کے آوازے کسے ہیں۔’’

کیمرون کے ایرک میرلین افریقیوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ‘‘آپ کو ہمیشہ بالکل پر سکون رہنا چاہیئے اور ہر قسم کے مسائل سے لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہیئے۔ اگر وہ آپ کی پٹائی کرنے لگیں تو وہاں سے بھاگ جانے کا راستہ تلاش کرو۔ اگر تم نے ان سے لڑنا شروع کر دیا تو ممکن ہے کہ تمہاری جان جاتی رہے۔’’

جن افریقی تارکینِ وطن کو زبان نہیں آتی یا جن کی کوئی جان پہچان نہیں ہے ان کے لیے ماسکو میں زندگی بہت مشکل ہو سکتی ہے۔

مالی کے ابراہیم اشتہار تقسیم کرنے کا کام کرتے ہیں اور روزانہ 20 ڈالر کماتے ہیں۔ ماسکو کا شمار دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ اتنی کم آمدنی میں زندہ رہنا آسان نہیں۔

پیگوائے نکوڈیا کہتے ہیں کہ یہاں ایک کمرے میں دس افریقی تارکینِ وطن سوتے ہیں۔ کنشاسا میں انھوں نے تیل سے مالا مال روس کی دولت کے بارے میں جو خواب دیکھے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے۔

نکوڈیا کا مشورہ یہ ہے کہ اگر روس میں ان کے پاس کوئی جاب نہ ہو یا یونیورسٹی میں ان کا داخلہ نہ ہو، تو انہیں یہاں نہیں آنا چاہیئے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح پیرس پہنچ جائیں جہاں ان کے رشتے دار رہتے ہیں۔

تاہم کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رنگدار غیر ملکیوں کو اب بھی یہاں وہی خصوصی درجہ مل جاتا ہےجو انہیں سوویت دور میں حاصل تھا۔

برینڈن کراس روسی زبان بولنے والے افریقی امریکی ہیں۔ وہ اپنا یونیورسٹی پروگرام ختم ہونے کے بعد ریڈیو ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے یہیں ٹھہر گئے۔

‘‘اصل مسئلہ سیاہ فام ہونے کا نہیں ہے۔ اب افریقیوں اور سیاہ فام لوگوں کو کالا نہیں کہا جاتا۔ اب نئے کالے لوگ وہ ہیں جو قفقاز کے اور وسط ایشیا کے رہنے والے ہیں۔’’

ماسکو کی پیپلز فرینڈ شپ یونیورسٹی کا نام شروع میں کانگو کے آزادی کے رہنما پیٹرس لممبا کے نام پر رکھا گیا تھا۔

یہ یونیورسٹی سابق سوویت یونین نے اس لیے قائم کی تھی کہ تیسری دنیا کے ملکوں میں اپنا سفارتی اثر و رسوخ بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ہزاروں نوجوانوں کو تعلیم دینے کا بندوبست کیا گیا تھا۔

آج بھی اس یونیورسٹی میں 6,000 طالب علم پڑھتے ہیں جن میں سینکڑوں کا تعلق افریقہ سے ہے۔

وائس ریکٹر ایلگزینڈر گلدش کہتے ہیں کہ یونیورسٹی افریقی طالب علموں کو بتاتی ہے کہ وہ اپنے حفاظت کے لیے کیا طریقے اختیار کریں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ماسکو کا ماحول افریقی طالب علموں کےلیے زیادہ خوشگوار ہوتا جا رہا ہے۔

گلدش ماسکو میں نسلی تعلقات کے مسئلے سے بخوبی واقف ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کل وہ کثرت سے ایک نیا لفظ (رواداری) سنتے ہیں۔’’

سوویت دور کے بعد کا ماسکو بعض اوقات رہنے کے لیے مشکل جگہ ہو سکتی ہے۔ لیکن روسی زبان بولنے والے افریقیوں کے لیے ماسکو کا ماحول سازگار ہوتا جا رہا ہے ایسے افریقیوں کے لیے جن کے پاس کوئی روزگار ہے یا جن کے لیے یونیورسٹی کی کلاسوں میں جگہ ہے۔
XS
SM
MD
LG