رسائی کے لنکس

روس اور ایران کے درمیان میزائلوں کی فروخت کا معاہدہ


فائل

فائل

روسی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر خلیجی ممالک کا ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو انہیں اس میزائل دفاعی نظام کو خطرہ سمجھنے اور اس سودے سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

روس کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایران کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے 'ایس-300' میزائل فروخت کرے گا۔

روس کی سرکاری ہتھیار ساز کمپنی 'روس ٹیک' کے سربراہ سرگئی شیمیزوف نے پیر کو دبئی میں جاری 'ایئر شو' کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ملکوں نے میزائل دفاعی نظام کی خرید و فروخت کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں جس پر جلد عمل درآمد کیا جائے گا۔

سرگئی شیمیزوف نے کہا کہ خلیجی ملکوں کو روس اور ایران کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ ''ایس-300' میزائل نظام ایک دفاعی ہتھیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر خلیجی ممالک کا ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو انہیں اس میزائل دفاعی نظام کو خطرہ سمجھنے اور اس سودے سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

روسی عہدیدار نے تصدیق کی کہ سعودی عرب نے اس سودے کو رکوانے کے لیے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کئی بار روس سے رابطہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ روسی حکومت نے ہر بار سعودی حکام کو یہ یقین دلایا کہ 'ایس-300' کم فاصلے تک مار کرنے والا خالصتاً ایک دفاعی نظام ہے جو کسی پڑوسی ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ روس خلیجی ممالک سمیت ہر اس ملک کو یہ میزائل نظام فروخت کرنے کے لیے تیار ہے جو اسے خریدنے کا خواہش مند ہو۔

روسی عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ اس سودے کی مالیت کتنی ہے اور روس کب تک یہ میزائل ایران کو فراہم کردے گا۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان رواں سال کے وسط میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد عرب ممالک اور اسرائیل مسلسل اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ ایرانی حکومت مغربی ملکوں سے اپنی مفاہمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوششوں میں اضافہ کرسکتی ہے۔

جوہری معاہدہ طے ہونے کے بعد ایران کی جانب سے اسلحے کی خریداری کا یہ پہلا معاہدہ ہے جو منظرِ عام پر آیا ہے۔ تاحال امریکہ اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے والی دیگر عالمی طاقتوں – برطانیہ، فرانس، چین اور جرمنی –نے میزائل نظام کی خریداری کے اس معاہدے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ معاہدہ کرنے والے چھ ملکوں کے نمائندہ گروپ 'پی5+1' کا چھٹا رکن روس ہے۔

XS
SM
MD
LG