رسائی کے لنکس

ولادی میر پیوٹن کے اقتدار کے خلاف دارالحکومت ماسکو میں حزبِ اختلاف کے حالیہ مظاہروں کو منظم کرنے میں ادلسوف کا سرگرم کردار رہا ہے۔ انہیں اس سے قبل بھی گزشتہ برسوں کے دوران میں ملتے جلتے الزامات کے تحت کئی بار حراست میں لیا جاچکا ہے

روسی حزبِ اختلاف کے ایک سرگرم رہنما نے خود کو سنائی جانے والی 10 دن قید کی سزا کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بائیں بازو کی تحریک کے رہنما سرجئی ادلسوف کو ولادی میر پیوٹن کے صدر منتخب ہونے کے خلاف کیے جانے والے احتجاج کے دوران میں پولیس کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر 10 دن قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جمعرات کو اپنے بیان میں ادلسوف نے کہا کہ بھوک ہڑتال کا مقصد سزا کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔

ولادی میر پیوٹن کے اقتدار کے خلاف دارالحکومت ماسکو میں حزبِ اختلاف کے حالیہ مظاہروں کو منظم کرنے میں ادلسوف کا سرگرم کردار رہا ہے۔ انہیں اس سے قبل بھی گزشتہ برسوں کے دوران میں ملتے جلتے الزامات کے تحت کئی بار حراست میں لیا جاچکا ہے۔

دریں اثنا ایک روسی عدالت نے دھوکہ دہی کے ایک متنازع مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد ملک کے معروف تاجر الگزئی کوزلوف کو دوبارہ جیل بھجوانے کا حکم سنایا ہے۔

کوزلوف کو اس مقدمے میں اس سے قبل پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی جس پر انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ وہ پہلے ہی تین برس جیل میں گزار چکے ہیں۔

واضح رہے کہ کوزلوف کی اہلیہ روس میں جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی سرگرم رہنما ہیں اور ان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ ان کے شوہر کو سنائی جانے والی سزا کا تعلق ان کی سیاسی سرگرمیوں سے ہے۔

وزیرِاعظم پیوٹن نے 4 مار چ کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہےاور وہ 7 مئی کو تیسری مدت کے لیے صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

پیوٹن اس سے قبل 2000ء سے 2008ءتک دو بار روس کے صدر رہ چکے ہیں۔ مسلسل تیسری بار صدر بننے کی راہ میں حائل آئینی پابندی کے باعث انہوں نے 2008ء میں وزارتِ عظمیٰ سنبھال لی تھی۔

XS
SM
MD
LG