رسائی کے لنکس

روس: مقتول رہنما کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت


مقتول رہنما کے آخری دیدار کے لیے جمع ہونے والے افراد کی قطار ایک کلومیٹر سے بھی زیادہ طویل تھی۔

مقتول رہنما کے آخری دیدار کے لیے جمع ہونے والے افراد کی قطار ایک کلومیٹر سے بھی زیادہ طویل تھی۔

اطلاعات ہیں کہ روسی حکومت نے کم از کم دو یورپی نمائندوں کو نیمتسوو کی آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا ہے۔

روس میں حزب اختلاف کے ایک اہم رہنما بورس نیمتسوو کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہیں جن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

نیمتسوو کا جسد خاکی منگل کو ماسکو میں انسانی حقوق کے ایک مرکز میں آخری رسومات کے لیے رکھا گیا تھا جہاں ہزاروں افراد نے ان کا آخری دیدار کیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق 55 سالہ مقتول رہنما کے آخری دیدار کے لیے جمع ہونے والے افراد کی قطار ایک کلومیٹر سے بھی زیادہ طویل تھی۔

آخری دیدار کے بعد نیمتسوو کی میت کو ماسکو کے ٹریکوروسکی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

مقتول رہنما کی آخری رسومات میں روسی حکومت کی نمائندگی نائب وزیرِ اعظم آرکادی دوارکووچ نے کی جب کہ کئی اہم شخصیات کے علاوہ روس میں امریکہ کے سفیر جان ٹیفٹ اور برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم جان میجر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

اطلاعات ہیں کہ روسی حکومت نے کم از کم دو یورپی نمائندوں کو نیمتسوو کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہونے دیا ہے۔

پولینڈ کی وزارت ِ خارجہ کے مطابق روسی حکومت نے پولش سینیٹ کے اسپیکر بوگڈن بوروسوکز کو روس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جو نیمتسوو کی آخری رسومات میں شریک ہونا چاہ رہے تھے۔

پولش وزارتِ خارجہ کے مطابق روس نے یہ قدم یوکرین کے بحران کے باعث یورپی یونین کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے ردِ عمل میں اٹھایا ہے۔

روسی حکومت نے لیٹویا کی رکنِ اسمبلی ساندرہ کلنیٹ کو بھی نیمتسوو کی آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا ہے جو یورپی پارلیمان کی بھی سینئر رکن ہیں۔

کلنیٹ نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حکومت نے انہیں"روس کا دشمن" قرار دیتے ہوئے ملک میں داخلے سے روکا ہے اور اس الزام پر وہ فخر کرتی ہیں۔

صدر ولادیمر پوٹن کے نمایاں ترین ناقد اور روس کے سابق نائب وزیرِاعظم نیمتسوو کو جمعے کی رات کریملن کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

انہیں چار گولیاں لگی تھیں اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جب کہ ان کے قاتل فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے۔

اکثر مخالفین کو شبہ ہے کہ یہ قتل صدر ولادی میر پواٹن کی مخالفت کے باعث کریملن کے حکم پر کیا گیا لیکن روسی حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام کے پیچھے پوٹن کی ساکھ کو خراب کرنے سمیت کئی اور عوامل بھی کار فرما ہو سکتے ہیں۔

صدر ولادی میر پیوٹن نے نیمتسوو کے قتل کی مکمل تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے اور ماسکو حکومت نے قاتلوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے لیے پچاس ہزار ڈالر انعام کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG