رسائی کے لنکس

روس کے جنوبی شہر وولگوگراد میں دو دن کے دوران یہ دوسرا دھماکا ہے۔ پیر کو ہونے والے اِس بس بم دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے

روس میں حکام نے کہا ہے کہ ملک کے جنوبی شہر وولگوگراد میں پیر کو ایک بس میں بم دھماکے سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

اس دھماکے سے ایک روز قبل ہی اتوار کی صبح شہر کے ایک ریلوے اسٹیشن پر خودکش بم حملے میں 17 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق یہ دھماکا جب ہوا تو اُس وقت عموماً شہر میں کافی رش ہوتا ہے۔ دھماکے سے بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی جب کہ کئی قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

روس کے جنوبی شہر وولگوگراد میں دو روز کے دوران ہونے والے دونوں بم دھماکوں کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

وولگوگراد سے 650 کلومیٹر کے فاصلے پر سوچی شہر میں آئندہ چند ہفتوں میں کھیلوں کے بڑے مقابلے ’سرمائی اولمپکیس‘ کا انعقاد ہونا ہے۔ کھیلوں کے مقابلوں سے قبل دہشت گردی کے واقعات پر حکام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

روس میں ایک مرکزی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ پیر کو ہونے والا دھماکا بھی ایک روز قبل ریلوے اسٹیشن پر ہوئے دھماکے ہی کی طرح کا تھا۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو بس پر حملہ مرد خودکش بمبار کی کارروائی تھی۔

روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے ملک کے انسداد دہشت گردی کے ادارے کو حکم دیا ہے کہ وہ وولگراد سمیت ملک بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دیں۔

اتوار کو ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے کمیٹی کے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خودکش خاتون بمبار نے ریلوے اسٹیشن کے داخلی مقام پر یہ دھماکا کیا تھا۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ خودکش بمبار کا تعلق داغستان کے علاقے سے تھا۔

وولگوگراد میں رواں سال اکتوبر میں ایک خودکش بم حملے میں پانچ افراد ہلاک اور لگ بھگ 30 زخمی ہو گئے تھے، یہ حملہ بھی ایک خاتون خودکش بمبار کی کارروائی تھی اور حکام کے مطابق اُس خاتون کا تعلق بھی داغستان سے تھا۔
XS
SM
MD
LG