رسائی کے لنکس

سریبرینِسا کو نسل کشی قرار دینے کی قرارداد روس نے ویٹو کردی


سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی قبریں

سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی قبریں

قرارداد سانحۂ سریبرینِسا کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر پیش کی گئی تھی جس کا مقصد سانحہ کو باضابطہ طور پر بوسنیائی مسلمانوں کی منظم "نسل کشی" قرار دینا تھا۔

روس نے بوسنیا کے مقام سریبرینِسا میں ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام کو "نسل کشی" قرار دینے سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد ویٹو کردی ہے۔

بدھ کو قرارداد کے مسودے پر ہونے والی رائے شماری کے دوران سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا جب کہ چار ممالک – چین، انگولا، نائجیریا اور وینزویلا – نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

لیکن روس کی جانب سے 'ویٹو' کا اختیار استعمال کیے جانے کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی۔ خیال رہے کہ سانحے کا ذمہ دار ملک سربیا خطے میں روس کا اہم اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

قرارداد سانحۂ سریبرینِسا کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر پیش کی گئی تھی جس کا مقصد سانحہ کو باضابطہ طور پر "نسل کشی" قرار دینا تھا۔

دو عالمی عدالتیں اپنے مختلف فیصلوں میں پہلے ہی اس واقعے کو سرب نژاد بوسنیائی مسلمانوں کی منظم "نسل کشی" کی واردات قرار دے چکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں برطانیہ اور امریکہ کے سفیروں نے روس کی جانب سے قرارداد کے خلاف 'ویٹو' کا حق استعمال کیے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے "سچ کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش" قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں برطانیہ کے سفیر پیٹر ولسن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس کو ان آٹھ ہزار مقتولوں کے ورثا کے سامنے اپنے اس اقدام کی وضاحت کرنا ہوگی جنہیں سریبرینِسا میں قتل کیا گیا۔

'وائس آف امریکہ' کی نمائندہ مارگریٹ بیشر سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارے میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ناتے روس جو چاہے کرسکتا ہے لیکن وہ "سچ کو ویٹو" نہیں کرسکتا۔

امریکی سفیر نے کہا کہ سریبرینِسا میں ہونے والی نسل کشی لاکھوں تصاویر اور دستاویزات، عینی شاہدین کے بیانات اور چھ ہزار سے زیادہ لاشوں کی باقیات سے ثابت ہوچکی ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

سمانتھا پاور نے بطور صحافی مختلف امریکی اشاعتی اداروں کے لیے 1993ء سے 1996ء کے دوران یوگو سلاویہ کی جنگ کی رپورٹنگ کی تھی جس کے دوران سریبرینِسا کا سانحہ پیش آیا تھا۔

یہ سانحہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والا عام شہریوں کا بدترین قتلِ عام تھا جس میں بوسنیا میں آباد سربوں کے فوجی دستوں نے آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور نوجوانوں کو قتل کردیا تھا۔

سریبرینِسا سربیا کے زیرِ انتظام بوسنیا کے علاقے کا ایک مسلم اکثریتی قصبہ تھا جسے 1992ء میں بوسنیا کی جنگ کے آغاز پر اقوامِ متحدہ کے امن رضاکاروں نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔

لیکن جولائی 1995ء میں سرب فوج کے دستوں نے قصبے پر حملہ کردیا تھا اور قصبے کی آبادی اور خانہ جنگی کے باعث وہاں پناہ لینے والے سیکڑوں خاندانوں کی عورتوں اور بچوں کو الگ کرکے مردوں اور نوجوانوں کا قتلِ عام کیا تھا۔

عالمی اداروں کے مطابق سریبرینِسا میں لگ بھگ تین روز تک جاری رہنے والے اس قتلِ عام میں سرب فوج اور اس کے حامی رضاکاروں نے آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد اجتماعی قبروں میں دفنا دیا تھا جن میں سے کئی قبریں تاحال دریافت نہیں ہوسکی ہیں۔

عالمی برادری اور اداروں کے دباؤ پر سربیا نے 2011ء میں اس قتلِ عام میں ملوث سرب فوج کے سابق سربراہ راٹکو ملاڈچ کو گرفتار کیا تھا جنہیں بوسنیا کی جنگ کے دوران روا رکھے جانے والے بدترین جنگی جرائم کا مرکزی ملزم سمجھا جاتا ہے۔

ملاڈچ ان دنوں دی ہیگ کی عالمی عدالت برائے جرائم میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG