رسائی کے لنکس

یوکرینی سرحد کے نزدیک روسی فوجی اڈے کی تعمیر


چھاؤنی کے مجوزہ مقام پر تعمیراتی کام شروع ہوگیا ہے

چھاؤنی کے مجوزہ مقام پر تعمیراتی کام شروع ہوگیا ہے

دستاویزات کے مطابق چھاؤنی ساڑھے سات سو ایکڑ رقبے پر قائم کی جارہی ہے جس میں 3500 فوجیوں کی رہائش کے لیے نو بیرکیں تعمیر کی جائیں گی۔

روس یوکرین کی سرحد سے متصل اپنے علاقے میں ایک بڑی فوجی چھاؤنی تعمیر کر رہا ہے جہاں ہزاروں فوجیوں کے قیام اور گولہ بارود کے ذخیرے کا بندوبست ہوگا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق وسیع رقبے پر تعمیر کی جانے والی اس چھاؤ نی میں فوجیوں کے لیے رہائشی و تفریحی سہولتوں کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے گی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی حکومت یوکرین کی سرحد کے نزدیک اپنے فوجی دستوں کی مستقل تعیناتی کا فیصلہ کرچکی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اس کے ایک رپورٹر نے رواں ہفتے چھاؤنی کے مجوزہ مقام کا دورہ کیا تھا جو سولوٹی نامی روس کے سرحدی گاؤں کے نزدیک اور یوکرین کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ایجنسی کے مطابق جب اس کا رپورٹر مجوزہ مقام پر پہنچا تو وہاں مزدور چھاؤنی کی بیرونی حدود کے تعین کے لیے خاردار باڑھ لگار ہے تھے۔

'رائٹرز' کے دعوے کے مطابق مزدوروں نے اس کے رپورٹر کو یوکرین کا جاسوس قرار دیتے ہوئے اسے وہاں سے چلے جانے کو کہا۔

خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال اپریل میں یوکرین کی سرحد پر سخت کشیدگی کے دوران چھاؤنی کے لیے منتخب کی جانے والی جگہ پر روسی فوج کا ایک کیمپ قائم کیا گیا تھا جہاں جنگی ہیلی کاپٹروں کا ایک اسکواڈرن اور فوجی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔

روسی حکومت کی ایک ویب سائٹ پر جاری کی جانے والی دستاویزات کے مطابق چھاؤنی ساڑھے سات سو ایکڑ رقبے پر قائم کی جارہی ہے جس میں 3500 فوجیوں کی رہائش کے لیے نو بیرکیں تعمیر کی جائیں گی۔

چھاؤنی میں راکٹ، توپ خانے اور دیگر گولہ بارود کےذخیرے کے لیے چھ ہزار اسکوائر میٹر پر گودام بنائے جارہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق چھاؤنی میں ایک بڑا تربیتی مرکز اور 50 بستروں کا اسپتال قائم کیا جائے گا جس میں "ضرورت پڑنے پر اضافہ کیا جاسکے گا۔"

سرکاری دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ دفاع کا ارادہ ہے کہ چھاؤنی میں فوجیوں کو توپ خانے، اور ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں چلانے کی تربیت دی جائے گی جب کہ وہاں "دشمن فوج" کی دفاعی حکمتِ عملی کے تجزیاتی مطالعے کا ایک مرکز بھی قائم ہوگا۔

چھاؤنی کے ساتھ ایک ہزار فلیٹوں پر مشتمل رہائشی مرکزاور فارغ اوقات میں فوجیوں کی تفریح کے لیے کھیلوں کے مراکز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چھاؤنی کی تعمیر کا پہلا مرحلہ اپریل 2016 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

'رائٹرز' کے مطابق جس علاقے میں چھاؤنی تعمیر کی جارہی ہے وہاں سے مرکزی ریلوے لائن بھی گزرتی ہے جو دارالحکومت ماسکو کو باغیوں کے زیرِ انتطام مشرقی یوکرین کے علاقے لوہانسک سے ملاتی ہے۔

یوکرین کی حکومت کا الزام ہے کہ روس اپنے سرحدی علاقوں میں عارضی فوجی کیمپ قائم کرکے وہاں سے مشرقی یوکرین میں سرگرم باغیوں کو مدد فراہم کرتا ہے۔

کیو حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان عارضی فوجی کیمپوں کے ذریعے روسی فوجی اور گولہ بارود مشرقی یوکرین منتقل کیا جاتا ہے۔

لیکن روس کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کا دعویٰ رہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں اس کے فوجی دستے موجود نہیں بلکہ وہاں جاری علیحدگی پسندی کی تحریک مکمل طور پر مقامی ہے۔

XS
SM
MD
LG