رسائی کے لنکس

روس کا انسانی حقوق کی کارکن کے خلاف مقدمہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

روسی حکام 2012ء سے اس قانون کو ایسی تنظیموں کے خلاف استعمال کرتے آرہے ہیں جو بیرون ملک سے فنڈز حاصل کرتی ہیں اور ان کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کی سرگرمیاں سیاسی ہیں۔

روس نے پہلی مرتبہ انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن پر اپنے مبہم "غیر ملکی ایجنٹ" قانون کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بات انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے بتائی۔

پیر کو روسی حکام نے ویلنٹینا چریواتنکو کو مطلع کیا کہ وہ اس کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرنے جا رہا ہے۔ چریواتنکو "ویمن آف دی ڈان یونین" نامی تنظیم کی عہدیدار ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے ڈائریکٹر ہوف ولیمسن کا کہنا ہے کہ " ویلنٹینا چریواتنکو کے خلاف ایک ایسا پہلا مقدمہ ہے جو غیر ملکی ایجنٹس سے متعلق قانون پر عملدرآمد نہ کرنے کے الزام میں کسی انسانی حقوق کے علمبردار کے خلاف دائر کیا گیا۔"

روسی حکام کہتے ہیں کہ چریواتنکو کو یہ علم تھا کہ انھیں اپنی تنظیم کو "غیر ملکی ایجنٹ" کے طور پر رجسٹر کروانا ہے کیونکہ اسے بیرون ملک سے فنڈز ملتے ہیں، لیکن انھوں نے اس بابت غفلت برتی۔

روسی حکام 2012ء سے اس قانون کو ایسی تنظیموں کے خلاف استعمال کرتے آرہے ہیں جو بیرون ملک سے فنڈز حاصل کرتی ہیں اور ان کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کی سرگرمیاں سیاسی ہیں۔

اس "مہبم" قانون کے تحت ایسی سرگرمیاں ملک سے وفادار نہ ہونے کے مترادف تصور کی جاتی ہیں اور اس کے تحت 100 سے زائد روسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہیں جن میں اکثریت خیراتی اداروں کی ہے اور انھیں اپنی سرگرمیاں بند کرنے پر مجبور کیا گیا۔

یہ قانون استغاثہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ روس میں کسی بھی غیر ملکی یا بین الاقوامی تنظیموں کو خطرہ تصور کرتے ہوئے بند کر سکتے ہیں اور کسی بھی روسی کو اس میں ملوث ہونے کے الزام چھ سال تک قید کی سزا دلوا سکتے ہیں۔

"غیر ملکی ایجنٹس" سوویت دور کی اصطلاح ہے جو جاسوسی اور غداری کے زمرے میں استعمال کی جاتی تھی۔

XS
SM
MD
LG