رسائی کے لنکس

ایران کو روسی ہتھیارو ں کی فراہمی میں تاخیر


روسی ایس -300 ائیر ڈیفنس سسٹم

روسی ایس -300 ائیر ڈیفنس سسٹم

روس ایران کو ایس -300 ائیر ڈیفنس سسٹم کی ترسیل میں تاخیر کرنے کے ساتھ تہران سے یہ بھی کہہ رہاہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے سلسلے میں جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے راہنما اصولوں پر عمل کرے۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے روس کی فوجی اور تکنیکی تعاون کی وفاقی سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر الیکزینڈر فومن کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کو ایس -300 ایئرڈیفنس سسٹم کی فراہمی میں تاخیر تکینکی مسائل کے باعث ہوئی ہے۔

روسی ہتھیاروں کی برآمد پر کنٹرول سے متعلق ادارے کے عہدےد ار فومن نے یہ بات نئی دہلی میں ایک دفاعی نمائش کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے تکینکی مسائل کی نوعیت کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان مسائل کو دور کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔

حال ہی میں اتوار کے روز روسی سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری ولاد میر نذروف نے کہا تھا کہ ایس -300 کے معاہدے پرلازمی طورپر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اس معاہدےپر 2005ء میں دستخط ہوئے تھے۔

اسرائیل اور امریکہ اس نظام کی فروخت کی مخالفت کرچکے ہیں جسے ایران اپنی جوہری تنصیبات کے خلاف کسی ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

تاخیر کے بارے میں یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے ماسکو کے دورے کے ایک روز بعد کیا گیا ہے۔ اسرائیلی راہنما نے روس کے اخبار ’ کامرسانت بزنس ڈیلی کو بتایا کہ وہ اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کریں گے کہ آیا انہوں نے صدر دیمتری مدویدف کے ساتھ اپنے مذاکرات میں کسی قسم کے مخصوص ہتھیاروں کی ترسیل پر گفتگو کی ہے۔

ایس -300 طیاروں اور کروز میزائلوں کو مار گرانے کے لیے سویت دور کا زمین سے فضا میں مار کرنے والا ایک نظام ہے۔ روس کے ایک غیر جانب دار فوجی امور کے تجزیہ کار پاول فیلگن ہاور نے وی او اے کو بتایا کہ اس نظام کو دورمار ایس -200 اور کم اور درمیانے درجے تک مار کرنے والے ٹور ایم ون سسٹم کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایس -300 نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فضائی نظام میں ایک بڑا خلا ہے جس کے نتیجے میں اس کے لیے کسی بھی حملے کے خلاف دفاع ناممکن ہے، چاہے وہ اسرائیل ہی کی جانب سے ہو۔

تل ابیب کو تشویش ہے کہ ایران کا کوئی جوہری ہتھیار اسرائیل کے لیے براہ راست خطرہ ہوسکتا ہے۔

اسی دوران روسی وزیر خارجہ سرگے لاروف نے ایران کو یاددہانی کرائی کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے مطابق یورینیم کی اپنی افزودگی روک دینی چاہیے۔ مسٹر لاروف نے حال ہی میں لاطینی امریکہ کے ایک دورے کے دوران تہران پر اپنے جوہری تحقیقی ری ایکٹروں کے لیے ایندھن کی فراہمی کی ایک بین الاقوامی پیش کش قبول کرنے پر بھی زور دیاتھا۔

ماسکو میں وزیر اعظم نتن یاہو نے ایرانی درآمدات اور برآمدات پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کیاتھا جن میں تیل کی مصنوعات مثلاً پٹرول وغیر شامل ہیں۔

منگل کے روز کریملن کی ترجمان نتالیا تماکووا نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو یقین دہانی چاہئیے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اگر ایسی ذمہ داریاں پوری نہ کی گئیں تو کوئی بھی ایران کے خلاف پابندیوں کے استعمال کو خارج ازامکان قرار نہیں دے سکتا۔

XS
SM
MD
LG