رسائی کے لنکس

روس: انتخابی نتائج پر احتجاج، ماسکو میں فوج اور پولیس کا گشت


روس: انتخابی نتائج پر احتجاج، ماسکو میں فوج اور پولیس کا گشت

روس: انتخابی نتائج پر احتجاج، ماسکو میں فوج اور پولیس کا گشت

روس کے ایک سابق راہنما میخائل گورباچوف نے روس کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو منسوخ کر کے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ موجودہ انتخابات عوام کی خواہش کی ترجمانی نہیں کرتے اور حکام کو ووٹنگ میں جعل سازی اور دھوکہ دہی کا اعتراف کرلینا چاہیے۔

حزب اختلاف کے راہنماؤں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہناہے کہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹنگ میں دھاندلی، بیلٹ بکس بھرنے اور دوسری بے قائدگیوں کے الزامات کی اطلاعات ہیں۔

انتخابات پر مبینہ فراڈ کے خلاف تیسرے روز ہونے والا مظاہرہ روکنے کے لیے دارالحکومت ماسکو میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہل کار اور فوجی گشت کررہے ہیں۔

منگل کے روز ماسکو میں 250 سے زیادہ حکومت مخالف مظاہرین کو گرفتار کیا گیاتھا جب کہ دوسرے اہم شہر سینٹ پیٹر برگ میں بھی ایک سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

حکومت کے حامیوں نے بھی کریملن کے قریب ایک مظاہرہ کیا۔ وزیر اعظم ولادی میر پوٹن کی جماعت یونائیٹڈ رشیا پارٹی نے اتوار کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان کی حمایت میں نمایاں طورپر کمی دیکھی گئی اور وہ بمشکل 50 فی صد نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے منگل کے روز کہاتھا کہ روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات نہ تو آزادانہ تھے اور نہ ہی شفاف اور ان کے نتائج سے سنگین تحفظات نے جنم لیا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ نے ہلری کلنٹن کے بیان کو ناقابل قبول قراد دیا ہے۔

روس کے صدر دیمتری میدویدف کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات شفاف، ایماندارانہ اور جمہوری تھے۔

XS
SM
MD
LG